پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی فعال اور کامیاب دور سے گزر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو آئندہ پانچ برس میں دو ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں ازبکستان کے یومِ آزادی کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی شیر تختیوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت، مذہب اور روایات پر قائم ہیں، جو اب اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ایک مضبوط تزویراتی شراکت داری میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ازبک سفیر نے تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرنے پر وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوستی، احترام اور مضبوط شراکت داری کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ازبکستان نے 1991 میں آزادی حاصل کی، تاہم اس کی ریاستی اور تہذیبی تاریخ تین ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ ازبکستان کی سرزمین نے محمد الخوارزمی، احمد الفرغانی، ابو ریحان البیرونی، ابو علی ابن سینا، مرزا الغ بیگ اور علی شیر نوائی جیسے عظیم علماء اور مفکرین پیدا کیے۔
علی شیر تختیوف نے کہا کہ امیر تیمور کی قائم کردہ ریاست بھی عالمی تاریخ میں انصاف، علم اور ترقی کی علامت کے طور پر ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عظیم تاریخی اور تہذیبی ورثہ صرف ازبکستان ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کا مشترکہ ورثہ ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ازبک سفیر کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران صدر شوکت مرزائیوف کی قیادت میں ازبکستان میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی گئی ہیں، جن کا بنیادی مقصد ہر شہری کے مفادات، عزت اور فلاح کو ریاستی پالیسی کا مرکز بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ازبکستان میں غربت کی شرح 2017 میں 35 فیصد سے کم ہو کر آج تقریباً 4 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ساڑھے چھ لاکھ سے زائد خاندان جدید گھروں کے مالک بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں قبل از ابتدائی تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے اور نئے اسکولوں، صدارتی اسکولوں اور خصوصی تعلیمی اداروں کے ذریعے بچوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
علی شیر تختیوف نے کہا کہ ازبکستان میں جامعات کے طلبہ کی تعداد بڑھ کر 16 لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور لاکھوں خاندانوں کے لیے اعلیٰ تعلیم اب صرف خواب نہیں بلکہ ایک حقیقی موقع بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان سائنس، جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ اپنے عظیم روحانی ورثے کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ تاشقند میں اسلامی تہذیب کا مرکز اور امام بخاری سمیت عظیم اسلامی علماء کے تجدید شدہ یادگاری مراکز اسلام کی حقیقی، پُرامن اور انسان دوست اقدار کے مطالعے اور دنیا تک ان کے پیغام کو پہنچانے کے اہم مراکز بن رہے ہیں۔
پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ازبک سفیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ازبکستان کے سرکاری دورے اور صدر شوکت مرزائیوف کے رواں سال فروری میں پاکستان کے سرکاری دورے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کونسل برائے تزویراتی شراکت داری کا قیام دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ صدر شوکت مرزائیوف کے دورۂ پاکستان کے دوران مختلف شعبوں میں 30 دوطرفہ دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔
علی شیر تختیوف نے کہا کہ ازبک عوام پاکستان کی جانب سے صدر شوکت مرزائیوف کو ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ پاکستان سے نوازے جانے کے فیصلے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول یہ اعزاز پاکستان کی جانب سے ازبک صدر اور دونوں ممالک کے درمیان خصوصی دوستی کے لیے احترام کا اظہار ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے کہا کہ صدر شوکت مرزائیوف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان دوستی اور باہمی اعتماد دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی بنیادی قوت ہیں۔ ان کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کی حالیہ ملاقات میں بھی موجودہ معاہدوں پر عمل درآمد اور تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ازبک سفیر نے شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے پر پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ازبکستان دونوں تنظیموں کی صدارت کے دوران پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا اور خطے میں امن، استحکام، عملی تعاون اور پائیدار ترقی کے لیے اس کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ برس میں باہمی تجارت کو دو ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کاروباری برادری کے درمیان براہِ راست روابط، سرمایہ کاری کے منصوبوں، تجارتی مراکز، بینکاری روابط اور سامان کی نقل و حرکت کو آسان بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
علی شیر تختیوف کے مطابق پاکستان اور ازبکستان کے درمیان فضائی رابطوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دو سال قبل دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہِ راست پرواز موجود نہیں تھی، تاہم اب تاشقند سے اسلام آباد اور لاہور کے لیے باقاعدہ مسافر پروازیں چل رہی ہیں جبکہ براہِ راست مال بردار پروازیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کے لیے نئی پروازوں سمیت مزید فضائی راستے شروع ہونے کے بعد اکتوبر 2026 تک دونوں ممالک کے درمیان ہفتہ وار پروازوں کی تعداد نو تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے کاروبار، سیاحت اور عوامی روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان مجوزہ ریلوے منصوبے کو مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ازبک سفیر نے کہا کہ یہ منصوبہ محض ایک سفری راستہ نہیں بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک پل ثابت ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اس ریلوے رابطے سے منڈیوں کو جوڑنے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، تجارت بڑھانے اور خطے کو امن اور مشترکہ خوشحالی کی جانب لے جانے میں مدد مل سکتی ہے۔
علی شیر تختیوف نے کہا کہ پاکستان ازبکستان کی خارجہ پالیسی میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور ازبکستان پاکستان کو صرف ایک اہم علاقائی شراکت دار ہی نہیں بلکہ ایک برادر ملک سمجھتا ہے، جس کے ساتھ امن، رابطوں اور ترقی کے حوالے سے مشترکہ وژن موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ازبک سفارتخانہ پاکستان کی حکومت، پارلیمان، کاروباری برادری، ثقافتی اداروں اور عوام کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی قیادت کے مضبوط سیاسی عزم کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔
تقریب کے اختتام پر ازبک سفیر نے کہا کہ آزادی کے 35 برسوں میں ازبکستان نے یہ اہم سبق سیکھا ہے کہ جب عوام اور ریاست ایک مشترکہ مقصد کے لیے مل کر کام کریں تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کی دوستی کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی نسل در نسل قائم رہے اور دونوں قومیں ہمیشہ دوستی، خوشحالی اور بھائی چارے کے رشتے میں متحد رہیں۔
