اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک منقسم عالمی ماحول کے دوران ’دانش مندی کی آواز‘، مختلف فریقوں کے درمیان پل بنانے والے ملک اور امن کے حامی کے طور پر اہم کردار ادا کیا ہے۔
اسلام آباد میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتیرس نے کہا کہ پاکستان عالمی امن و سلامتی، سفارت کاری، مہاجرین کے تحفظ، امن مشنز اور موسمیاتی تبدیلی سمیت متعدد شعبوں میں اقوامِ متحدہ کا اہم شراکت دار رہا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مدتِ ملازمت کے آخری مہینوں میں پاکستان اس لیے آئے ہیں کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران انہوں نے مختلف ذمہ داریوں میں پاکستان کو ’یکجہتی اور مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے والے ملک‘ کے طور پر دیکھا ہے۔
انتونیو گوتیرس نے افغان مہاجرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک جنگ اور عدم استحکام سے فرار ہونے والے لاکھوں افغان شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور مقامی آبادیوں نے بھی ان کے ساتھ اپنے وسائل بانٹے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ پاکستان کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا کہ افغان شہریوں کی واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار طریقے سے ہو۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ مذاکرات کے لیے حالات پیدا کرنے اور ثالثی میں پاکستان کی قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع ختم کریں، سفارت کاری کی جانب واپس آئیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو مکمل طور پر بحال کریں۔
انتونیو گوتیرس نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس حق کو مکمل طور پر تسلیم کرکے عملی شکل نہیں دی جاتی۔ ان کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے اس مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔
پاکستان کے اقوامِ متحدہ میں مجموعی کردار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انتونیو گوتیرس نے کہا کہ سلامتی کونسل میں پاکستان کا کردار ’انتہائی اہم‘ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی سلامتی کونسل میں جہاں اختلافات اور تقسیم موجود ہے، پاکستان نے دانش مندی کی آواز، مختلف فریقوں کے درمیان پل اور امن کی حمایت کرنے والے ملک کے طور پر کام کیا۔
انتونیو گوتیرس نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے امن فوج میں سب سے زیادہ اہلکار فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
ان کے مطابق پاکستانی مرد و خواتین نے دنیا کے مشکل اور خطرناک علاقوں میں خدمات انجام دی ہیں جبکہ امن مشنز کے دوران 180 سے زیادہ پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 کے سلسلے میں ڈنمارک کے ساتھ پاکستان کے کردار کو بھی سراہا، جس کا مقصد اقوامِ متحدہ کے امن اہلکاروں کے خلاف جرائم کے ذمہ دار افراد کے احتساب کو مضبوط بنانا ہے۔
انتونیو گوتیرس کے مطابق 156 ممالک نے اس قرارداد کی مشترکہ حمایت کی، جو سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کے لیے غیر معمولی سطح کی حمایت تھی۔
سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں دہشت گردی کے باعث ہونے والے جانی نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ اس خطرے سے نمٹنے میں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جائز سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے اقدامات بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے مطابق ہونے چاہییں۔
انتونیو گوتیرس نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں انتہائی معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام اور صاف توانائی کی جانب پاکستان کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی کوششیں ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔
ان کے مطابق جی 20 ممالک دنیا کے تقریباً 80 فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں اور اس دہائی کے دوران ان اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی ضروری ہے۔
انہوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا کہ وہ COP29 میں کیے گئے وعدے پورے کریں اور ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی مزاحمت بہتر بنانے اور توانائی کی منصفانہ منتقلی کے لیے مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور دیگر معاونت فراہم کریں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اپنے خطاب کے اختتام پر انتونیو گوتیرس نے کہا کہ پاکستان کو دوسرے ممالک کی طرح کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن پاکستانی عوام کی ثابت قدمی اور بہتر مستقبل بنانے کا عزم ہمیشہ ان کے لیے متاثر کن رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اقوامِ متحدہ پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ وہ دنیا کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔‘
