Turkiya-Logo-top

ترکیہ میں طلبہ کو تعلیم کے دوران ہی روزگار سے جوڑنے کا منصوبہ

ترکیہ نے یونیورسٹی کی تعلیم اور روزگار کے درمیان خلا کم کرنے کے لیے ’’آن دی جاب ووکیشنل ٹریننگ ماڈل‘‘ متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت طلبہ کو تعلیم کے دوران ہی عملی کام کے ماحول سے جوڑا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں 7 صوبوں کے ایک لاکھ 20 ہزار طلبہ اس پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ 2026-27 کے تعلیمی سال میں 81 جامعات کے 185 پیشہ ورانہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کے طلبہ کو متعلقہ صنعتوں اور اداروں میں کم از کم ایک سمسٹر عملی تربیت دی جائے گی۔

\مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اس اقدام کو تعلیم اور روزگار کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ایسا اعلیٰ تعلیمی نظام درکار ہے جو حقیقی شعبوں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ ان کے مطابق 2018 میں شروع کیے گئے صنعتی زونز کے پیشہ ورانہ اسکولز منصوبے میں روزگار کی شرح 90 فیصد تک پہنچنے کے نتائج سامنے آئے، اسی تجربے کو اب مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیمی کونسل کے سربراہ ای رول اوزوار کے مطابق آج صرف ڈگری کافی نہیں، بلکہ آجر ایسے گریجویٹس چاہتے ہیں جن کے پاس عملی تجربے کے ساتھ ٹیم ورک، مسئلہ حل کرنے، ابلاغ، ڈیجیٹل مہارت اور کام کے نظم و ضبط جیسی صلاحیتیں بھی ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی لیے مختصر 20 یا 30 روزہ انٹرن شپ کے بجائے ایک یا دو سمسٹر پر مشتمل کام کی جگہ پر تربیت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

اس ماڈل میں طالب علم تعلیم کے دوران ہی فیکٹری، کمپنی، لیبارٹری، صحت کے ادارے یا اپنے متعلقہ شعبے کے کسی ادارے میں کام کے حقیقی ماحول کا تجربہ حاصل کرے گا۔ یوں گریجویشن کے بعد عملی میدان میں داخل ہوتے وقت اسے کام کے بنیادی طریقۂ کار، صنعتی معیار، ٹیم ورک اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے پہلے ہی واقفیت حاصل ہو سکتی ہے۔

اس کا ایک اہم ممکنہ فائدہ وقت کی بچت ہے۔ عام طور پر گریجویشن کے بعد نوجوان کو نوکری تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ عملی ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں بھی وقت لگتا ہے۔ اگر یہ تجربہ تعلیم کے دوران ہی حاصل ہو جائے تو ڈگری اور پہلی ملازمت کے درمیان موجود عبوری مرحلہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایردوان کے مطابق اس پالیسی کا ایک بڑا مقصد ایسے نوجوانوں کی تعداد کم کرنا بھی ہے جو نہ تعلیم میں ہوں اور نہ روزگار میں۔ ان کے بقول اگر تعلیم مکمل کرنے والے نوجوان پیداوار اور روزگار میں زیادہ تیزی سے شامل ہوں تو ملک کی انسانی صلاحیت کو زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

تاہم یہ ماڈل ہر طالب علم کے لیے مستقل ملازمت کی ضمانت نہیں دیتا۔ اس کا بنیادی مقصد تعلیم، عملی تجربے اور صنعت کی ضرورت کو ایک ہی سلسلے میں جوڑنا ہے، تاکہ نوجوان ڈگری حاصل کرتے وقت صرف تعلیمی سند نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کا عملی تجربہ بھی ساتھ لے کر نکلے۔

ترکیہ کا یہ تجربہ ان ممالک کے لیے بھی قابلِ غور ہو سکتا ہے جہاں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو پہلی ملازمت حاصل کرنے سے پہلے اضافی تربیت یا تجربے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر جامعات اور صنعت کے درمیان ایسا رابطہ قائم ہو جائے تو نوجوانوں کے لیے تعلیم سے روزگار تک منتقلی کا وقت کم، جبکہ آجر کے لیے تیار افرادی قوت تک رسائی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔

Read Previous

غزہ پر مسلط جنگ کے تین سال: 74 ہزار فلسطینی جاں بحق، بیشتر آبادی بے گھر

Read Next

پاکستان عالمی امن و سلامتی کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس

Leave a Reply