غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو تین سال مکمل ہو گئے ہیں اور اس عرصے کے دوران فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 74 ہزار فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
یہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز اور دیگر فلسطینی گروہوں کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس حملے میں 1,139
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
افراد مارے گئے جبکہ تقریباً 240 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کیں اور پہلے سے جاری ناکہ بندی مزید سخت کر دی۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق تین برس میں جاں بحق ہونے والوں میں کم از کم 21 ہزار بچے بھی شامل ہیں۔ یہ تعداد جنگ سے پہلے غزہ کی مجموعی آبادی کے تقریباً تین فیصد کے برابر ہے۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار میں صرف ہسپتالوں میں ریکارڈ یا باضابطہ طور پر رجسٹرڈ اموات شامل ہیں، اس لیے ملبے تلے دبے اور لاپتا افراد کے باعث اصل تعداد زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
اکتوبر 2025 میں جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اس کے بعد بھی اسرائیلی حملوں اور فلسطینی ہلاکتوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے کم از کم 1,460 فلسطینی جاں بحق اور 5,116 زخمی ہوئے ہیں۔
تین سالہ جنگ نے غ-زہ کے صحت کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے اوچا کے مطابق غ-زہ کے 94 فیصد ہسپتال اور طبی مراکز مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں اور 666 طبی مراکز میں سے صرف 42 فعال ہیں۔
پانی کی فراہمی بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق غ-زہ میں پانی اور نکاسی آب کے نظام کا بیشتر حصہ تباہ یا متاثر ہو چکا ہے۔ تقریباً نصف آبادی کو پینے اور کھانا پکانے کے لیے روزانہ فی شخص چھ لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے۔
اوچا کے مطابق غ-زہ میں 82 فیصد عمارتیں تباہ یا متاثر ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً 19 لاکھ 80 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں، جو غ-زہ کی آبادی کا تقریباً 90 فیصد بنتے ہیں۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
تعلیم کا نظام بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غ-زہ کے تقریباً 93 فیصد سکولوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جبکہ سات لاکھ سے زیادہ طلبہ باقاعدہ تعلیم سے محروم ہیں۔ کم از کم 63 یونیورسٹی عمارتیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔
صحافیوں کے لیے بھی غ-زہ دنیا کے خطرناک ترین مقامات میں شامل رہا ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک تقریباً 300 صحافی اور میڈیا کارکن مارے جا چکے ہیں۔
تین سال گزرنے کے باوجود غ-زہ میں انسانی بحران برقرار ہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہیں، طبی اور تعلیمی نظام شدید متاثر ہے اور خوراک، پانی اور بنیادی سہولیات تک رسائی اب بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
