Turkiya-Logo-top

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی معاہدے پر فوری عمل درآمد اور فوجی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کا فیصلہ

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ اتحاد برائے دفاع کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق مکہ اتحاد برائے دفاع کو ادارہ جاتی شکل دینے کے سلسلے میں کمیٹی نے پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو تین سال کے لیے اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ تینوں ممالک نے ان کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اتحاد کے مقاصد کے حصول میں ان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔

اعلامیے میں مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے ساتھ سعودی عرب کے شہروں، شہری آبادی اور اقتصادی تنصیبات پر جاری حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ تینوں ممالک نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

پاکستان اور ترکیہ نے خطرات اور حملوں کا مقابلہ کرنے میں سعودی مسلح افواج کی مستعدی، تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں ان کے کردار کی تعریف کی۔

کمیٹی نے ہنگامی اجلاس سے قبل ہونے والی سیاسی اور فوجی مشاورت کے نتائج کا بھی جائزہ لیا اور پیش کردہ سفارشات کی منظوری دی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مکہ اتحاد برائے دفاع اجتماعی دفاع کے مضبوط عزم اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے۔

کمیٹی نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر فوری طور پر عملی درآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے تحت طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور منظور شدہ انتظامات اور تینوں ممالک کے قومی قوانین کے مطابق سعودی عرب میں ان کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد فوجی تیاری، باہمی عسکری انضمام اور خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی ایک رکن ملک کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ تینوں ممالک کے مطابق مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا اجتماعی دفاع کے عزم کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے، مشترکہ دفاعی صلاحیت اور مؤثر بازدار قوت کو مضبوط بناتا ہے اور تینوں ممالک کے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے مشترکہ عزم کی توثیق کرتا ہے۔

Read Previous

بھارت کا ’پاکستانی دہشت گرد ہلاک‘ کرنے کا دعویٰ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے سابق ایس ایس جی کمانڈو محمد آصف کو میڈیا کے سامنے زندہ پیش کر دیا

Leave a Reply