پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک ایسے سابق پاکستانی فوجی کو میڈیا کے سامنے پیش کیا ہے جس کے بارے میں بھارتی فوج اور میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے مقبوضہ کشمیر میں ایک کارروائی کے دوران مار دیا گیا ہے۔
جمعرات کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج نے 29 ستمبر کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے کوراگ، یوسمرگ میں ایک کارروائی شروع کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ان کے مطابق اگلے روز بھارتی فوج کی چنار کور نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں لشکرِ طیبہ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ جنگجو کی لاش ملی ہے۔
بعد میں بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سمیت مختلف بھارتی میڈیا اداروں نے اس شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی اور دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ یعنی ایس ایس جی میں خدمات انجام دے چکے تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی حکام اور میڈیا نے محمد آصف کو مختلف حملوں سے بھی منسلک کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ ایک طویل عرصے سے بھارتی سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھے۔
پریس کانفرنس کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے بلا لیا اور کہا کہ بھارت جس شخص کو مارنے کا دعویٰ کر رہا ہے وہ زندہ موجود ہے۔
محمد آصف نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں ایک روز قبل دوستوں کی جانب سے فون آیا اور بتایا گیا کہ بھارتی میڈیا میں ان کے مارے جانے کی خبریں چل رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے انہیں بتایا کہ میں زندہ اور صحت مند ہوں۔‘
محمد آصف کے مطابق انہیں بھارت کے نمبروں سے بھی فون کالز موصول ہوئیں جن میں ان سے ذاتی معلومات، شناخت اور ان کے موجودہ مقام کے بارے میں پوچھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ سنہ 2000 میں پاکستان آرمی میں شامل ہوئے، 2005 میں ایس ایس جی کا حصہ بنے اور 2023 میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔ ان کے مطابق وہ گزشتہ چند ماہ سے اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں مقیم ہیں۔
محمد آصف نے بھارتی میڈیا اور حکام کی جانب سے ان سے متعلق کیے گئے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ زندہ ہیں اور میڈیا کے سامنے موجود ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی دعوؤں کو ’فالس فلیگ‘ اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس طرح کے واقعات کے ذریعے اپنی پالیسیوں اور خطے میں ہونے والی سرگرمیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
