Turkiya-Logo-top

وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار کی تاجک صدر سے ملاقات، علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس کے موقع پر تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اقتصادی تعاون، روابط کے فروغ، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے امور پر زور دیا گیا۔

اسحاق ڈار تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ کی دعوت پر 19 اور 20 اکتوبر کو ہونے والے ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لیے دوشنبے موجود ہیں جہاں وہ پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ تاجک صدر نے اجلاس میں شریک رکن ممالک کے وفود کے سربراہان کا خیرمقدم کرتے ہوئے تنظیم کے تحت اقتصادی تعاون مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

اجلاس میں چین، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے وزرائے اعظم، ایران کے نائب صدر اور بھارت کے وزیر خارجہ سمیت رکن ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہیں۔ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، معیشت، ٹرانسپورٹ، علاقائی روابط اور سماجی و اقتصادی تعاون سے متعلق امور زیرِ بحث ہیں۔ اختتام پر مشترکہ اعلامیے اور اہم فیصلوں کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

دورے کے دوران اسحاق ڈار نے تاجک وزیراعظم قاہر رسول زادہ سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور تاجکستان نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، ثقافت اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلی، آبی تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پاکستانی نائب وزیراعظم نے تاجکستان کے ساتھ علاقائی امن اور اقتصادی انضمام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اسحاق ڈار کی چینی وزیراعظم لی چیانگ سے بھی اجلاس کے موقع پر غیر رسمی ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان اور چین کے تزویراتی تعلقات اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان 2027 میں اسلام آباد میں ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔ پاکستان نے اکتوبر 2024 میں بھی ایس سی او کے سربراہانِ حکومت کے اجلاس کی میزبانی کی تھی۔

Read Previous

پاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی عارضی معطلی، سکیورٹی اقدامات سخت

Read Next

فرانس سے البانیہ تک یورپ کے کئی ممالک میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟

Leave a Reply