Turkiya-Logo-top

فرانس سے البانیہ تک یورپ کے کئی ممالک میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں؟

یورپ کے کئی ممالک میں مہنگائی، رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات، تعلیمی اداروں کی خراب صورتحال اور عوامی سہولتوں میں کمی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آ رہی ہے۔ فرانس، اٹلی اور البانیہ میں بعض مظاہرے پُرتشدد ہو گئے ہیں، جبکہ سپین اور پرتگال میں مہنگے کرایوں کے خلاف شہریوں نے احتجاجی کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان مظاہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہے، جو روزگار، تعلیم اور بہتر معیارِ زندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

فرانس میں احتجاج پُرتشدد کیوں ہوا؟

فرانس میں احتجاج کا آغاز تین ہفتے قبل سکولوں کی خراب حالت اور تعلیمی سہولتوں کی کمی کے خلاف طلبہ کے مظاہروں سے ہوا تھا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ خصوصاً کم آمدنی والے علاقوں کے سکولوں میں اساتذہ اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی ہے۔

بعد میں مزدور تنظیمیں اور دیگر شہری بھی ان مظاہروں میں شامل ہو گئے اور احتجاج کا دائرہ مہنگائی، عوامی خدمات اور بڑھتے ہوئے اخراجات تک پھیل گیا۔

اگرچہ لاکھوں افراد نے پُرامن مظاہروں میں شرکت کی، تاہم گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بعض شہروں میں تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔

پیرس، مارسی، لیون اور بوردو میں دکانوں کو لوٹا گیا، جبکہ لیموژ شہر میں انیسویں صدی کی تاریخی بلدیاتی عمارت آگ لگنے سے شدید متاثر ہوئی۔ بعض سکولوں کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔

حکام کے مطابق بدامنی کے دوران تقریباً 2400 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے انتہائی بائیں بازو کے کارکنوں پر بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لوٹ مار اور سرکاری عمارتوں پر حملوں میں ملوث افراد کو جواب دہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں بدامنی کا ذمہ دار تارکین وطن کو قرار دیا ہے، تاہم فرانسیسی پولیس اور حکام نے ان واقعات کی ذمہ داری تارکین وطن پر عائد نہیں کی۔

سپین اور پرتگال میں لوگ سڑکوں پر کیوں ہیں؟

سپین میں احتجاج کی ایک بڑی وجہ رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ دارالحکومت میڈرڈ کے مشہور چوک پوئرتا دل سول میں مظاہرین نے کئی ہفتوں سے خیمے لگا رکھے ہیں۔

یہ احتجاج ایک 87 سالہ خاتون کو گھر سے بے دخل کیے جانے کے واقعے کے بعد شروع ہوا تھا۔ خاتون بعد میں ہسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔

سپین میں کم آمدنی والے افراد، خصوصاً نوجوانوں کے لیے مکان کا کرایہ ادا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق سپین میں کم از کم ماہانہ تنخواہ 1221 یورو ہے، جبکہ 80 مربع میٹر کے ایک اپارٹمنٹ کا اوسط ماہانہ کرایہ تقریباً 1130 یورو تک پہنچ چکا ہے۔

حکومت نے سستی رہائش سے متعلق اقدامات کی منظوری دی، لیکن پارلیمان میں مطلوبہ حمایت نہ ملنے کے بعد وزیراعظم پیدرو سانچیز نے نومبر میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا۔

سپین کے اساتذہ بھی بہتر تنخواہوں اور کام کے حالات کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ اسی نوعیت کے رہائشی مسائل کے خلاف پرتگال کے شہروں لزبن اور پورٹو میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔

اٹلی میں مہنگائی اور کم تنخواہوں کے خلاف مظاہرے

اٹلی میں بھی ہزاروں افراد روزگار، صحت، تعلیم، رہائش اور بہتر تنخواہوں کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

ستمبر میں اٹلی میں مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد تک پہنچ گئی، جو یورو زون کی مجموعی شرح 3.8 فیصد سے زیادہ تھی۔

اٹلی کے کئی شہروں میں پُرامن مظاہروں کے بعد بعض مقامات پر تشدد پھوٹ پڑا۔ میلان، تورین اور بولونیا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ دکانوں میں لوٹ مار اور املاک کو آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔

میلان پولیس کے مطابق دو روز کی بدامنی میں 271 افراد گرفتار کیے گئے، جن میں زیادہ تر کم عمر تھے۔ ان واقعات میں 14 سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

احتجاجی تنظیموں نے ہر ہفتے سنیچر کو مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

البانیہ میں حکومت کے خلاف احتجاج کی وجہ کیا ہے؟

البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔

یہ احتجاج بدعنوانی کے الزامات کے خلاف شروع ہوا تھا، تاہم سکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی شمولیت کے بعد اس میں شدت آ گئی۔

مظاہرین وزیراعظم ایدی راما کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو بدعنوانی کے خاتمے کے ساتھ تعلیم، صحت اور عوامی پنشن کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔

بعض مظاہروں کے دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔

وزیراعظم ایدی راما نے مظاہرین پر انتہا پسند نظریات سے متاثر ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

ادھر سربیا میں بھی طلبہ کی قیادت میں تقریباً دو سال سے بدعنوانی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ ملک میں 25 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

یورپ کے نوجوانوں میں بے چینی کیوں بڑھ رہی ہے؟

ماہرین کے مطابق یورپ کے نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور بے اختیاری محسوس کر رہے ہیں۔

اگرچہ مختلف یورپی ممالک میں احتجاج کی وجوہات الگ الگ ہیں، لیکن ان میں ایک مشترک پہلو نوجوانوں کے معاشی مستقبل اور بنیادی عوامی سہولتوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔

Read Previous

وزیر خارجہ پاکستان اسحاق ڈار کی تاجک صدر سے ملاقات، علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال

Read Next

"معاہدے سے ابتدائی 10 سال تک علیحدگی اختیار نہیں کی جا سکے گی”، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کا مکمل متن کیا کہتا ہے؟

Leave a Reply