Turkiya-Logo-top

پاک ایران سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی عارضی معطلی، سکیورٹی اقدامات سخت

پاکستان اور ایران کے درمیان ریمدان گبد سرحدی گزرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام کو سرحدی سلامتی بہتر بنانے، دہشت گردی اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی کوشش کے نتیجے کے طور پر بند کیا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کی صبح سے سرحدی گزرگاہ پر تجارتی سرگرمیاں بند ہیں، تاہم مسافروں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ایران کے محکمہ ٹرانزٹ کے ڈائریکٹر جنرل سید حسین حسینی نے 17 اکتوبر کو تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث دونوں ممالک کے لیے سرحدی نگرانی سخت کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

دوسری جانب سرحد کے دونوں جانب سمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے زیادہ مؤثر مشترکہ نظام کی ضرورت ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔

ادھر سمگلنگ سے وابستہ عناصر اور کالعدم تنظیمیں، جن میں بی ایل اے اور جماعت الاحرار شامل ہیں، عارضی پابندیوں کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان حلقوں نے پاکستانی اور ایرانی حکام سے منسوب جعلی خطوط پھیلائے جانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ تاہم ان الزامات اور خطوط کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع نے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں حالیہ دہشت گرد سرگرمیوں کے پیچھے بیرونی عناصر کے ممکنہ کردار کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پاک ایران مشترکہ تھنک ٹینک کے مطابق اس کے سربراہ محمد حسین باقری کی تہران میں پاکستانی سفیر سے گفتگو کے دوران پاکستانی جانب سے سرحدی گزرگاہ کی بندش کی تصدیق ہوئی ہے۔

ذرائع نے واضح کیا ہے کہ عارضی پابندیوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا نہیں بلکہ سرحد کو دہشت گردی، سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔

Read Previous

معارف فاؤنڈیشن کی کامیابی کے دس سال

Leave a Reply