fbpx
ozIstanbul

‘حاجی زین العابدین تاگی ایف آذرربائجان کا حاتم طائی’

تحریر : طاہرے گونیش

حاجی زین العابدین 1823 کو ایک غریب موچی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ان کے باپ کا نام تاگی تھا سو اس نسبت سے وہ تاگی ایف کہلاتے ہیں ، آذری ترک زبان چونکہ روسی سےمتاثرہ ہے سو ترکش والا اوعلو انھوں نے ییف یا yev کر دیا ہے جس سے مراد ابن ہوتا ہے مثلا taghiyev ۔ اب واپس ترک نام رکھے جانے کے لیے قانون بن چکا ہے سو اس ایف کو زادہ سے بدلا جا سکتا ہے۔لیکن رواج بدلنے میں وقت لگے گا۔ یتیمی کے بعد کافی مشکل حالات دیکھے لیکن چونکہ وہ ٹھیکیدار تھے سو چھوٹے موٹے سودے طے کیا کرتے تھے۔ انھوں نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر بی بی ہیبت کے پاس باکو کے علاقے میں کچھ زمین خریدی، ان کا خیال تھا کہ یہاں سے تیل نکلے گا، لیکن تیل نہ نکلا، ان کے دوستوں نے سب زمیں حاجی زین العابدین کو بیچ دی۔ چار سال بعد وہاں تیل کے اتنے بڑے کنویں دریافت ہوئے کہ حاجی زین العابدین روسی سلطنت کے امیر ترین فرد بن گئے۔صاحب ثروت ہونے کے بعد حاجی زین العابدین نے اپنی دولت لوگوں کی فلاح اور ملک کی ترقی کے لیے وقف کرنا شروع کی۔ مساجد کی تعمیر اور پکی سڑکیں بنانے سے لے کر،پانی کے ذخیرے اور فراہمی ممکن بنانے، موسیقی سکھانے کی عمارت تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ سب سے بڑی خدمت یہ کی کہ بے تحاشا تعداد میں لڑکیوں کے لیے سکول تعمیر کئے۔ جو فرسودہ رسومات کی تحت تعلیم حاصل کرنے سے محروم تھیں، ان لڑکیوں کے لیے سیکولر سکولز بنائے۔انھوں نے ایک اچھے مسلمان ہونے کی حیثیت سے قرآن کا ترجمہ کروانا چاہا آذری زبان میں تاکہ لوگ سمجھ سکیں، لیکن اس بات پر ملا حضرات ان کے خلاف ہوگئے۔ ملاؤں کا خیال تھا کہ قرآن ایک مقدس کتاب ہے اس کا ترجمہ کرنا قرآن کی توہین ہے۔ اس کو عربی میں ہی پڑھا جائے۔ حاجی زین العابدین نے بیس ملاؤں کا ایک گروپ تشکیل دے کر بغداد بھیجا تاکہ فتوی حاصل کرسکیں کہ قرآن کا مقامی زبان میں ترجمہ حلال ہے یا حرام۔وہاں سے ترجمے کی اجازت مل گئی، ملا منہ تکتے رہ گئے۔اس کے بعد انھوں نے قرآن کے ترجمے کا بندوبست کیا۔پورا معاشرہ ان کا احسان مند ہونے لگا۔ان کی دولت دن دگنی رات چگنی ہونے لگی کیونکہ وہ کاروبار کو بڑھاوا دینا جانتے تھے۔ ان کی دولت صرف تیل کے کنوؤں سے نہیں آ رہی تھی اب۔ انھوں نے مختلف کاروباروں میں پیسہ لگایا اور کامیاب رہے۔ بہت سے لوگوں کو روزگار دیا۔یہ تو اپنے ملک و وطن کے لیے خدمت تھی۔ لیکن ان کا دل دنیا کے ہر کونے میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے بھی دھڑکتا تھا (ویسے تو انھوں نے دیگر مذاہب کے لوگوں کی فلاح کے لیے بھی بہت مال وقف کیا،ہزاروں آرمینیا کے یتیم بچوں کو پالا پوسا)۔لیکن جب برصغیر کا وہ حصہ جو اب پاکستان بن گیا ہے میں وبا پھیلی جو pneumonic plague کہلاتی تھی۔اور اموات کافی زیادہ تھیں۔اس سے بچاؤ ایک ویکسین کے ذریعے ممکن تھا۔ جو حاجی زین العابدین نے تین لاکھ ویکسینز خرید کر اپنے مسلمان بھائیوں کو بھجوائیں۔ جس نے اس بیماری سے کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔حاجی زین العابدین کی موت کے چند سال بعد موجودہ پاکستان کا علاقہ ہندوستان سے الگ ہوا اور حاجی زین العابدین کی امداد سے متعلق یہ حقائق پاکستان کے ٹریننگ مینول کا حصہ بنا دئے گئے ہیں۔ اور جب آذربائجان پر مشکل وقت آیا کاراباع کی جنگ کی وجہ سے تو پاکستانی حکومت اور لوگوں نے کھل کر ساتھ دیا۔ جس کی احسان مند آذری قوم آج بھی ہے۔سیر و سیاحت اور مزید معلومات کے شوقین حضرات جب باکو آئیں تو نظامی سٹریٹ کے پاس ہی حاجی زین العابدین تاگی ایف کی گلی واقع ہے جہاں پر ان کی شخصیت سے متعلق معلومات پر مبنی ایک پورا میوزیم ہے۔ یہ حاجی زین العابدین کا گھر ہوا کرتا تھا۔ اس محل نما گھر یعنی میوزیم کی سیر نہ کرنا کفران نعمت ہے۔

طاہرے گونیش سے رابطہ کریں۔

[email protected]

پچھلا پڑھیں

فٹ بال:فینز باحس کو گالسترائے کلب سے شکست کا سامنا

اگلا پڑھیں

پاک بحریہ کی امن فوجی مشقیں

One Comment

  • ! Turk!
    Our nostalgia
    Turklar
    Musalmanlar
    Gardashtlar

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے