یٰسین ملک کی بھوک ہڑتال دسویں روز بھی جاری،جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کا اقوام متحدہ پر فوری اقدامت کے لیے زور

جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے خرابی صحت کے باوجود مسلسل دسویں روز بھی بھوک ہڑتال جاری رکھی، صحت خرابی کے باعث کشمیریوں کو شدید تشویش لاحق ہے۔

جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انیٹونیوگیترس پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری رہنماء یاسین ملک کی زندگی کو خطرات کے پیش نظر ان کی سلامتی تحفظ کے لئے فوری اقدامات اٹھائے۔

چیئرمین جے کے ایل ایف کو شفاف ٹرائل اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

سفاک بھارتی حکام نے یاسین ملک کو گذشتہ روزہسپتال سے واپس نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقل کر دیا تھا۔

یاسین ملک نے اپنے خلاف درج جھوٹے مقدمات میں منصفانہ ٹرائل سے انکار کے خلاف 22 جولائی کو تہار جیل میں غیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

26 جولائی کو طبیعت بگڑنے پر انہیں نئی دلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل جیل خانہ سندیپ گوئل کے مطابق یاسین ملک نے تہاڑ جیل میں اپنے سیل میں واپس پہنچنے کے بعد بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ کسی بھی قسم کی غذا نہیں لے رہے۔

جس سے ان کی صحت تشویشناک حدتک بگڑ چکی ہے ۔

یاسین ملک 2019 سے غیر قانونی حراست میں ہیں جب بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔

وہ اس وقت تہاڑ جیل کی سیل نمبر 7 میں ہیں۔

این آئی اے کی خصوصی عدالت نے رواں برس 25 مئی کو انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

جیل حکام نے بتایا کہ انہوں نے یاسین ملک کی میڈیکل ہسٹری جو بالکل حوصلہ افزا نہیں ہے کو مدِنظر رکھتے ہوئے انہیں غیر معینہ عرصے کیلئے بھوک ہڑتال پر نہ جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ اپنے فیصلے پر بضد رہے۔

بھوک ہڑتال کے دوران جب ان کی صحت بگڑنے لگی تو انہیں جیل کے طبی تفتیشی کمرے میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں ہسپتال بھیجنے سے پہلے انہیں ابتدائی طبی امداد دی۔

اسپتال ذرائع کے مطابق یاسین ملک نے ڈاکٹروں کو تحریری طور پر مطلع کردیا ہے کہ وہ اپنا علاج نہیں چاہتے لیکن تادمِ مرگ بھوک ہڑتال جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

کشمیریوں میں یاسین ملک کی صحت و سلامتی کے حوالے سے کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سفارتی بیورو کے سربراہ ظفر خان کی جانب سے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے نام ایک خط بھی لکھا گیا ہے جس میں کشمیریوں کے بنیادی حقوق کے لئے یاسین ملک کی پرامن جدوجہد کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یاسین ملک تین دہائیوں سے جموں و کشمیر کے عوام کے لیے تمام بین الاقوامی اصولوں، معاہدوں، جنیوا کنونشنز، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے دن رات جدوجہد کر رہے ہیں۔

خط میں کشمیر پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔

خط کے متن کے مطابق ظفرخان نے کہا کہ یاسین ملک انصاف اور منصفانہ ٹرائل کے انکار کے خلاف 22 جولائی سے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر ہیں۔ کئی سالوں کی قید، اذیتوں اور متعدد بیماریوں کی وجہ سے ان کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ، انسانی حقوق کے ہائی کمشنر سمیت اقوام متحدہ کے تمام ذیلی اداروں کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یاسین ملک کو شفاف ٹرائیل سے انصاف مل سکے  اور ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

خط میں کہاگیا ہے کہ یواین سیکرٹیری جنرل سے اپیل ہے کہ وہ یاسین ملک کی زنذگی کو درپیش خطرات کے پیش نظر ان کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں۔

Read Previous

ترکیہ نے مقامی سطح پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی آزمائشی پیداوار کا آغاز کردیا

Read Next

گوگل جی میل میں بہتر سرچنگ کے لیے نئی مشین لرننگ ٹیکنالوجی متعارف

Leave a Reply