fbpx

دنیا کے ارب پتیوں کی دولت میں 5 ہزار ارب ڈالر کا اضافہ، ترکی کے 26 افراد بھی امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل

2020 میں جہاں دنیا بھر کی معیشتیں کساد بازاری اور سست روی کا شکار رہیں اور عالمی معاشی بحران پیدا ہوا وہیں کچھ لوگوں کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

امریکی میگزین "فوربس” نے 2020 کے ارب پتیوں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ 2020 میں سب سے زیادہ کمائی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے کی۔ اس وقت دنیا بھر میں ارب پتیوں کی تعداد 2755 ہو چکی ہے جس میں سب سے زیادہ تعداد امریکیوں کی ہے۔

امریکی کمپنی ایمیزون کے مالک جیف بیزوس مسلسل چوتھی بار ارب پتیوں میں اول نمبر پر رہے۔ 2020 میں دنیا بھر کے ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں پانچ ہزار ارب ڈالر کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی میگزین فوربس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رینڈل لین نے کہا کہ امیر امیر سے امیر تر ہو گئے ۔

دنیا کے امیر ترین افراد میں دوسرا نمبر الیکٹرک کار تیار کرنے والی امریکہ کی سب سے بڑی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک ہیں۔ امریکی کی لگژری سامان تیار کرنے والی کمپنی ایل وی ایم ایچ کے مالک برنارڈ ایرنالٹ تیسرے نمبر پر آ گئے

مائیکرو سافٹ کے مالک بل گیٹس چوتھے اور فیس بک کے چیف ایگزیکٹو مارک زگربرگ دنیا کے پانچویں امیر ترین فرد ہیں۔

حالیہ 20 برسوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکی سرمایہ کار وارین بیفیٹ ٹاپ فائیو کی فہرست سے نکل گئے ہیں۔

اس سال دنیا بھر میں 493 نئے ارب پتی امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہو گئے جن میں وٹنے وولف ہرڈ بھی شامل ہیں۔

دنیا کے امیر ترین افراد میں 742 ارب پتی امریکی شہری ہیں۔ دوسرے نمبر پر 698 افراد کا تعلق چین سے ہے جبکہ بھارت کے ارب پتیوں کی تعداد 140 ہو گئی ہے۔

اس سال ترکی کے 26 افراد بھی دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہو گئے۔ ان میں یلدیز ہولڈنگ کے چیئرمین مراد اولکر شامل ہیں جن کی دولت کا تخمینہ 6.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ترکی کے دوسرے امیر ترین رونیسنز ہولڈنگ کے چیئرمین ارمان الیجک ہیں جن کے پاس 4.4 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں۔ ترکی کے تیسرے امیر ترین دوغاش ہولڈنگ کے چیئرمین فرید شیہنک ہیں جن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 3 ارب ڈالر ہے۔

ترکی کے 26 امیر ترین افراد مجموعی طور پر 53.2 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

ترکی رمضان میں 75 ممالک کو امداد تقسیم کرئے گا

اگلا پڑھیں

ترکی: 2016 کی فوجی بغاوت میں شامل فوجی افسران کو کڑی سزائیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے