fbpx

ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقوں سے بھارت آوْٹ

ایران، روس اور چین کی شمالی بحرہ ہند میں مشترکہ فوجی مشقوں سے بھارت آوٗٹ ہو گیا۔

بھارت نے آخری وقت میں مشترکہ بحری مشقوں میں شرکت سے معذرت کر لی۔ بھارتی بحریہ نے ایک بیان جاری کیا کہ دو روزہ مشترکہ بحری مشقوں میں شرکت نہیں کی جائے گی۔ اس سے کچھ دیر پہلے ایرانی بحریہ کے حکام نے کہا تھا کہ بھارت نے ان مشقوں میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا۔

ایرانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ تہران، ماسکو اور بیجنگ کی ہونے والی مشترکہ بحری مشقوں میں بھارت نے شمولیت پر آمادگی ظاہر کی لیکن آخری لمحے میں بھارت نے شرکت سے انکار کر دیا۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے ان مشقوں میں چین کی شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال چین اور بھارت کے سرحدی فوجی تصادم کے بعد دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ بھارت اور چین کے سرحدی فوجی تصادم میں 20 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارتی بحریہ کی مشقوں میں شمولیت کی تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں لیکن بظاہر چین کی بحری فوج کی موجودگی میں بھارت نے مشقوں میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی رویئے سے کنفوژن پیدا ہو گئی ہے کیونکہ ایرانی اور بھارتی ترجمانوں کے بیانات میں تضادات واضح نظر آ رہے ہیں۔

ایرانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل حسین خانزادہ نے منگل کو بیان جاری کیا تھا کہ بھارت جو اپنے آپ کو خطے کی مضبوط بحری طاقت سمجھتا ہے نے مشقوں میں شرکت کی حامی بھری تھی۔

مشترکہ بحری مشقوں کے ترجمان عامر غلام مرزا نے میڈیا کو بتایا کہ بھارتی بحریہ نے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشقوں میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا لیکن اچانک آخری لمحات میں انہوں نے انکار کر دیا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ چالیس برسوں میں کسی بھی ایرانی وزیر دفاع نے بھارت کا پہلی بار دورہ کیا تھا جس میں بھارتی بحریہ نے مشقوں میں شامل ہونے پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن اچانک سے بھارتی انکار نے سب کو حیران کر دیا ہے۔

ایرانی سمندری حدود میں روس اور ایران کی بحری افواج کی مشترکہ فوجی مشقیں 2019 میں شروع ہوئیں تھیں جس میں اس سال چین نے بھی شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

ترکش ٹیکنوفیسٹ 2021 کی تیاریاں مکمل

اگلا پڑھیں

ناسا:مریخ کی تحقیق میں جھیل سالدا اہم کردار ادا کرے گی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے