ترکی:بوتلوں کے ڈھکن بنے معذور لوگوں کے لیے ویل چیئر حاصل کرنے کا ذریعہ

پچھلی ایک دہائی سے ترکی میں پلاسٹک  کی بوتلوں کے ڈھکن اکھٹا کر کے فروخت کرنے سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے اس سے معذور افراد کے لیے  دیل چیئرز کی فراہمی  کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

  اس تحریک میں بہت  سے لوگوں نے جلد ہی ہار مان لی تھی  کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں ڈھکن جمع کر نا  بہت سا وقت اور  محنت درکار کرتا ہے۔

مگر   73 سالہ ریٹائرڈ ہلت ایودان اور انکی پوتی  نے ہار نہیں مانی ۔انہوں نے پچھلے 13 سالوں میں 373 افراد کو ویل چیئرز مہیا کی ہیں۔ان دونوں کی اس محنت  نے بہت سے لوگوں کو زندگی کی ایک نئی امید دلائی ہے ۔

 ملیکا صرف 4 سال کی تھیں جب انہوں نے  پلاسٹک بوتلوں کے ڈھکن اکھٹا کرکے اپنے دادا کی مدد کرنا شروع کی تھی۔ان دونوں نے مل کر ہزاروں بوتلوں کے ڈھکن اکھٹا کیے اور انہیں ری سائیکلینگ کمپنی کو دے کر  انکے بدلے میں ملنے والے پیسوں سے معذور اور ضرورت مند لوگوں کو  ویل چیئرز خرید کر دی۔

ایک ویل چیئر خریدنے کے لیے  تقریبا 200،000 کے قریب بوتلوں کے ڈھکنوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

اس کام کو اور ترقی  دینے کے لیے ملیکا اور اسکے دادا نے سوشل میڈیا پر  "دادا پوتی   نیلے بوتلوں کے ڈھکن ” کے نام سے ایک پیج شروع کیا ،جسکے دیکھتے ہی دیکھتے 100،000 سے زیادہ    فولوورز ہو گئے۔ انکے پیج کو فولو کرنے والے لوگوں نے بھی بوتلو ں کے ڈھکن جمع کرنے میں انکی مدد کی۔

ملیکا نے اپنی پہلی ویل چیئر کی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی ویئل چیئر ہم نے ایک معذور بچے کو دی تھی ۔ جب ہم اسکے گھر اسے یہ تحفہ دینے گئے تو اسے لگا کہ شاید یہ کسی اور کے لیے ہے  اور اپنی والدہ  سے کہنے لگا کہ کاش میرے پاس بھی یہ ہوتی ۔  یہ جاننے کے بعد کے ویل چیئر اسی کے لیے ہے وہ بہت خوش ہوا ۔

ایدوان کا کہنا تھا کہ انہیں لوگوں کی مدد کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔اور وہ  اپنی زندگی کے آخر تک اس کام کو جاری رکھیں گے۔

Read Previous

ترکی اور آذربائیجان کی سیاسی جماعتوں کا "ترکِک یونین” بنانے کا مطالبہ

Read Next

جاوید چیتن کی دو روز پاکستان قیام کے دوران مصروفیات

Leave a Reply