مغربی جمہوریت اور آزادی،،، نسل پرستی اور صہیونیت کے آگے جھک گئی، صدر ایردوان

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مسلم دنیا ایک نئے درد بھرے دور سے گزر رہی ہے۔ گذشتہ صدی کی دو بڑی عظیم جنگوں میں کروڑوں افراد کے مارے جانے کے بعد دنیا میں جمہوریت اور آزادی کی ایک شمع روشن ہوئی تھی لیکن نو آبادیاتی نظام نے تمام اخلاقی حدود کو پامال کر دیا۔

ازمیر میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ مغربی ممالک اپنے آپ کو جمہوریت اور آزادی کا چیمپئن سمجھتے ہیں لیکن آج یہی ممالک نسل پرستی، فاشزم اور صہیونیت کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں۔

ماضی میں مختلف علاقوں سے سستے مزدوروں کو اپنے ممالک میں آنے کی اجازت دینے والے اب خانہ جنگی سے متاثرہ علاقوں کے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لئے اپنے دروازے بند کر رہے ہیں۔

ایک ملک کا سربراہ آزادیٗ اظہار کی آڑ میں مسلمانوں کی سب سے معتبر ترین ہستی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر رہا ہے۔ اب جمہوریت کہاں ہے؟

انہوں نے کہا کہ یورپی اقدار اب کہاں ہیں؟ مغربی سیاستدان مختلف مذاہب اور عقیدوں کے ماننے والوں کے عقائد پر حملے کر رہے ہیں۔

آقا صلی اللہ علیہ وسم کی توہین دراصل تمام مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کسی صورت توہین رسات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

Read Previous

دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے دروازے دوبارہ کھل گئے

Read Next

پاکستان میں ترک مصنوعات کی مانگ بڑھ گئی

Leave a Reply