fbpx
ozIstanbul

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی نظر انداز نہیں کی جا سکتی،وزیر خارجہ پاکستان

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔

لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے برطانوی وزیر خارجہ ایلزبیتھ ٹروس سے ہونے والی ملاقات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کشمیر پر ایک جماعتی پارلیمانی گروپ ہے جس میں تمام جماعتوں کے اراکین شامل ہیں اور وہ گاہے بگاہے برطانوی حکومت کو توجہ دلاتے ہیں کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے اقدامات ایسے ہیں جو فورتھ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وہاں جغرافیائی تبدیلی کی جارہی ہے۔

بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک واحد ریاست ہندوستان، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے تو اس کے دور اندیش عزائم بھی ہیں اور نتائج بھی ہوسکتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا تقاضہ کرتا ہے اور کرنا بھی چاہیے، أفغانستان پر بھی وہ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہیے لیکن اس کا نفاذ خاص ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا کے کسی ایک حصے میں انسانی حقوق کا احترام کیا جارہا ہے تو دنیا کے دوسرے حصے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر ان میں سے ایک ایسا علاقہ ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اس کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں حکام سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر بات کرنے کا اچھا موقع ملا، پھر اگلے سال ہمارے سفارتی اور دو طرفہ تعلقات کے 75 سال مکمل ہوجائیں گے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں بتایا کہ ہمارے سامنے دو چیزیں آئی ہیں، ایک ہمارے تعلقات کے 75 سال پورے ہو رہے ہیں اور ہمارے اسٹریٹجک تعلقات بھی ہیں، اس کی بھی کئی نشستیں ہوئی ہیں اور ان کو مزید فعال کرنے کے لیے مزید تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے جوائنٹ ورکنگ گروپس تشکیل دینے کی تجویز دی جس کو انہوں نے قبول کیا، ہم نے مختلف شعبوں کی نشان دہی کی ہے کہ کن أمور پر ہمیں مشترکہ کام بڑھانا چاہیے تاکہ ہم بیٹھ کر تبادلہ خیال سے حکمت عملی مرتب کریں کہ ان امور پر باہمی طور پر ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کیسے کرسکتے ہیں اور اس سے دوطرفہ تعلقات کو مزید کیسے بہتر کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور اس کے جائزے میں شرکت کریں اور انہوں نے دعوت قبول کی اور مناسب وقت پر وہ پاکستان کا دورہ کریں گی۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات، افغانستان اور کشمیر پر بات ہوئی پھر معاشی تعلقات زیر بحث آئے اور میرے خیال میں معاشی تعلقات میں امکانات موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد ہمیں جی ایس پی پلس کا درجہ دیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے سال کووڈ کے باوجود ہماری دو طرفہ تجارت میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں بہتری آئی ہے لیکن اتنی نہیں آئی جتنی آسکتی ہے، جس کے لیے تجویز دی کہ ہماری ایک اعشاریہ 6 ملین کی گنجائش ہے تو کیوں نہ ہم اس طاقت کو تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے استعمال کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری جو برادری رہتی ہے وہ دونوں ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتی ہے اور فارن سیکریٹری نے بتایا کہ وہ اس ذمہ داری سے پہلے تجارت کی سیکریٹری تھیں اور پاکستان کے لیے ایک خصوصی نمائندہ مقرر کیا تھا اور عنقریب وہ پاکستان آرہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے ان کو تجویز پیش کی کہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایک ایف ٹی اے کے لیے اپنی گفتگو کا آغاز کریں تو انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ایک جوائنٹ کمیشن بھی مرتب کیا جاسکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ برطانیہ سے دیرینہ تعلقات بڑھیں اور ترسیلات زر کے حوالے سے بھی برطانیہ ہمارے لیے اہم ملک ہے اور قونصل خدمات کو بھی بہتر کرنا چاہتے ہیں تاکہ لوگوں کے لیے سہولت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ساری باتیں خارجہ سیکریٹری سے ملاقات پر ہوئی اور کل کنزرویٹو پارٹی کے چند اراکین سے ملاقات کا موقع ملا اور ان تک پاکستان کا نکتہ نظر پہنچانے کا موقع ملا۔ش

پچھلا پڑھیں

افغانستان میں پاکستان کے ذریعے امداد بھجوانا جاری رکھیں گے ، ترک وزیر خارجہ

اگلا پڑھیں

ترک صدر ایردوان کا دورہ روس، ایجنڈا میں کیا کیا شامل؟

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے