آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی کی امریکی کوششیں ناکام

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتوں میں جنگ بندی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ مائیک پومپیو کی آرمینیا کے وزیر خارجہ زہراب ایم نیتسکنیا اور آذربائیجان کے ہم منصب جیون بیراموف کے ساتھ ملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں دونوں جانب سے تشدد ختم کرنے اور معصوم شہریوں کی جانوں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا لیکن اس معاملے میں ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

امریکہ وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا ہے کہ مائیک پومپیو نے دونوں ملکوں کو آرگنائزیشن آف سیکیورٹی اینڈ کوآپریشن ان یورپ (او ایس سی ای) کے مِنسک گروپ کے تحت ہیلسنکی فائنل ایکٹ کے طے شدہ اصولوں کے مطابق طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔ انہوں نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی جغرافیائی حدود کے احترام، مساوی حقوق اور دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی اپنی فوجوں کو واپس بیرکوں میں بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ او ایس سی ای کا مِنسک گروپ فرانس، امریکہ اور روس پر مشتمل ہے جو آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازعہ کو ختم کرنے کے لئے 1992 میں قائم کیا گیا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات میں امریکہ نے نیکورنو کاراباخ تنازعہ کو جنگ کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ سیز فائر کے عملی معاہدے کے بعد دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے تنازعے کو حل کریں۔

ایک سوال کے جواب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکی مداخلت پر سیز فائر کا معاہدہ کرنا مشکل ہے کیونکہ اس وقت میدان جنگ کی صورتحال اور سفارتی سطح پر تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں۔

واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات میں روس، فرانس اور امریکہ نے شرکت کی لیکن ابھی تک آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کسی سمجھوتے یا معاہدے پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔

آذربائیجان کا موقف ہے کہ مِنسک گروپ جس میں امریکہ، فرانس اور روس شامل ہیں 30 سال سے اس تنازعے کو حل کرنے میں ناکام رہے

Read Previous

کورونا کنٹرول کرنے کے لئے مزید سخت اقدامات کئے جائیں گے، صدر ایردوان

Read Next

مقبوضہ کشمیر: اس ماہ بھارتی فوج نے 18 معصوم اور نہتے شہریوں کو شہید کر دیا

Leave a Reply