امریکہ کا کُرد دہشت گرد تنظیموں سے رابطہ، ترکی کردوں کے خلاف نیا محاذ نہیں کھولے گا

شام میں امریکی سفیر جیمز جیفری نے کُرد دہشت گرد تنظیم وائی پی جی، پی کے کے اور سیرین کُردش نیشنل کونسل کے رہنماوٗں سے خصوصی ملاقات کی ہے۔

نیم خود مختار علاقے کے صدر نشیروین بارزانی بھی امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات میں موجود تھے۔

یہ اجلاس کُرد علاقے ایربل میں ہوئی جس میں شام میں غیر ملکی فوجوں اور سیکیورٹی کی صورتحال پر بات ہوئی۔

امریکی سفارتخانے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شام میں کُردوں کو درپیش مسائل، عراق اور ایربل کے درمیان تعلقات اور  علاقے میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متعلق معاملات زیر غور آئے۔

امریکی سفیر نے کُردوں کی مختلف تنظیموں کے ساتھ بارزانی کے رابطوں اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے کرنے پر ان کی کوششوں کو سراہا۔ امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ شام کے کُردوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے مسائل بہتر طریقے سے حل کئے جا سکیں۔

نشیروین بارزانی نے امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کا شکریہ ادا کیا جن کوششوں سے علاقے سے دہشت گردی کو کم کرنے میں مدد ملی۔

امریکی سفیر نے کردوں کے ساتھ ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ ترکی علاقے میں کوئی نیا فوجی آپریشن شروع نہیں کرے گا۔

امریکی سفیر نے کردوں کے تمام گروپوں سے کہا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلقات کو فروغ دیں اور اس بات کی تسلی رکھیں کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف کوئی نئی کارروائی نہیں کرے گا۔

امریکی سفیر نے وائی پی جی اور پی کے کے کی ملٹری کونسل اور مقامی کونسل کے ساتھ بھی علیحدہ ملاقات کی۔

امریکی سفیر نے علاقے میں امن قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے لوگوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔

Read Previous

صدر ایردوان کی جرمن چانسلر اور یورپین یونین کے رہنماوٗں سے ویڈیو لنک کانفرنس

Read Next

بیسیکتاس کے مینیجر یلسین کا کورونا ٹیسٹ منفی

Leave a Reply