فلائیڈ قتل کے بعد منیاپولیس کا چوکیولڈ پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ، امریکہ

منیاپولیس  میں ایک غیر مسلح سیاہ فام آدمی کی موت کے بعد سٹی کونسل کے جمعہ کے روز منظور ہونے والے ایک معاہدے کے مطابق مینیپولیس پولیس محکمے کو جلد ہی مشتبہ افراد پر چوکیولڈ اور گردن دبانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

شہر کے مذاکراتی ارکان اور منیسوٹا ڈیپارٹمنٹ آف ہیومن رائٹس کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کے تحت اب ایسے کسی معاملے کو پولیس  میں رپورٹ کرنے کی ضرورت ہوگی جہاں ساتھی افسران کسی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے نظر آئیں گے ۔ معائدے کے مطابق مدت ملازمت یا عہدے سے قطع نظر  سٹی پولیس ڈپارٹمنٹ کا کوئی بھی ممبر محکمہ پولیس کے  کسی اور ممبر کو غیر قانونی طور پر طاقت کا استعمال اور آرڈر کی خلاف ورزی جس میں کسی بھی طرح کا چوکولڈ یا گردن دبانا شامل ہے کرتے دیکھے گا اس پر یہ ذمہ داری عائد ہو گی کی فوری طور پر واقعے کی اطلاع دے

یہ معاہدہ جارج فلائیڈ کی موت کے بعد ہوا  ، جو ملازمت سے برطرف ہونے والے آفیسر ڈیرک چوون کے ہاتھوں ہتھکڑیوں میں سمیت قتل کیا گیا

چوون اور تین دیگر افسران کو جائے وقوعہ پر برطرف کردیا گیا اور ان پر قتل کا جرم بھی عائد کیا گیا۔ ان میں سے ایک نمایاں طور پر چوون کے ساتھ کھڑا ہوا تھا جب سانحہ پیش آیا اور وہ اردگرد جمع لوگوں کو جانے کا کہتا رہاجب فلائڈ نے التجا کی کہ وہ سانس نہیں لے پا رہا۔

اسٹاک ٹریبیون کے مقامی اخبار کے مطابق ، جس نے 10 صفحات پر مشتمل دستاویز کی ایک کاپی شائع کی ، اس معاہدے میں چوکیولڈ سمیت  پولیس پر ہجوم کو کنٹرول کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال پر  پابندیاں عائد کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے جس سے پولیس محکمے میں  شفافیت کو تقویت ملے گی۔

25 مئی کو فلائیڈ کی موت نے پورے امریکہ کے شہروں میں نسلی ناانصافی اور پولیس کی بربریت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا۔

Read Previous

لیبیا: تُرک ڈرون حملے میں روسی دفاعی نظام تباہ

Read Next

ترکی کی وائرس کے دوران امداد کو امریکی کانگریس میں تسلیم کیا گیا

Leave a Reply