ترکیہ اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی تعاون تیزی سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں دوطرفہ تعلقات محض ثقافتی و سیاسی ہم آہنگی سے آگے بڑھ کر عملی معاشی شراکت میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
تاشقند میں 16 جون کو منعقد ہونے والا ترکیہ-ازبکستان بزنس فورم اس پیش رفت کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس کی مشترکہ صدارت ترکیہ کے وزیرِ تجارت عمر بولات اور ازبکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ معیشت و مالیات جمشید کوچکاروف نے کی۔
ازبکستان میں صدر شوکت مرزیایوف کے دور میں شروع کی گئی اصلاحات نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ملک خطے کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اس دوران ترکیہ، ازبکستان کے اہم غیر ملکی سرمایہ کاروں میں نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
فورم میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ مرحلے میں تعاون کو روایتی تجارت سے آگے بڑھا کر صنعتی پیداوار، مشترکہ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی منتقلی اور سپلائی چین انضمام تک وسعت دی جائے گی۔
اس وقت ازبکستان میں 2,200 سے زائد ترک کمپنیاں مختلف شعبوں میں سرگرم ہیں، جبکہ ترکیہ کی تعمیراتی کمپنیوں نے اب تک 325 منصوبوں پر کام کیا ہے جن کی مجموعی مالیت 9.5 ارب ڈالر ہے۔
دونوں ممالک نے توانائی، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل معیشت، زرعی ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے، جسے مستقبل کی اقتصادی شراکت کے لیے کلیدی قرار دیا جا رہا ہے۔
خطے میں ابھرتی ہوئی مڈل کوریڈور کی اہمیت بھی اس شراکت داری کو مزید مضبوط بناتی ہے، جو چین اور یورپ کے درمیان تجارتی رابطوں میں مرکزی کردار ادا کر سکتی ہے۔
دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ 3.1 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب اور بعد ازاں 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ترکیہ اور ازبکستان کے تعلقات ایک ایسے اسٹریٹجک اقتصادی ماڈل کی شکل اختیار کر رہے ہیں جو آنے والے برسوں میں پورے خطے کی معاشی سمت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
