Turkiya-Logo-top

ترک بحری صنعت کی عالمی سطح پر توسیع، جنگی جہاز کی پہلی برآم

ترکیہ نے نیٹو اور یورپی یونین کے رکن ملک رومانیہ کو پہلی بار جنگی بحری جہاز برآمد کر کے دفاعی صنعت میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ معاہدہ رومانیہ کے ساتھ طے پایا، جسے ترکیہ کی اسٹریٹجک دفاعی پیش رفت کا اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

استنبول نیول شپ یارڈ میں منعقدہ تقریب میں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ترکیہ نے کسی نیٹو اور یورپی یونین کے رکن ملک کو جنگی بحری جہاز برآمد کیا ہے۔ تقریب میں رومانیہ کے صدر نکوشور ڈین بھی شریک تھے۔

اسی موقع پر ترک بحریہ کے آف شور پٹرول ویسل TCG Koçhisar کو بھی باضابطہ طور پر کمیشن کیا گیا اور خدمات میں شامل کیا گیا۔

صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی سطح پر طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور ایسے ماحول میں وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں جو دفاعی طور پر مضبوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے گزشتہ 23 برسوں میں دفاعی صنعت میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے، اور آج وہ دنیا کے بڑے دفاعی برآمد کنندگان میں شامل ہے۔

ان کے مطابق ترکیہ کی دفاعی اور ایرو اسپیس برآمدات گزشتہ ماہ تقریباً 996 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ ملک اب تک 140 سے زائد بحری پلیٹ فارمز مختلف ممالک کو فراہم کر چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت ترکیہ 50 سے زائد جنگی بحری جہازوں کی تعمیر میں مصروف ہے، جن میں 15 سے زائد جہاز دوست اور اتحادی ممالک کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر تیار کردہ ٹیکنالوجی کا تناسب 80 فیصد سے زائد ہو چکا ہے۔

ایردوان نے کہا کہ رومانیہ کے ساتھ یہ دفاعی تعاون بحیرہ اسود کی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ترکیہ، رومانیہ اور بلغاریہ کے درمیان بحیرہ اسود میں بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ تعاون بھی جاری ہے۔

تقریب کے دوران ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ کا مقصد کشیدگی پیدا کرنا نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ملک اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

تقریب کے اختتام پر ترک اور رومانیہ کے صدور نے بحری جہازوں کے کمانڈرز کو پرچم، کمیشننگ سرٹیفکیٹس اور اعزازات پیش کیے، جس کے ساتھ یہ تاریخی دفاعی معاہدہ باضابطہ طور پر مکمل ہوا۔

Read Previous

ترکیہ اور ازبکستان کے اقتصادی تعلقات میں نئی پیش رفت

Read Next

قاہرہ میں R-4 وزرائے خارجہ اجلاس: پاکستان کی ثالثی میں امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم، علاقائی امن و استحکام پر زور

Leave a Reply