Turkiya-Logo-top

ترکیہ S-400 دفاعی نظام قطر یا یو اے ای کو فروخت کر رہا ہے، اعلان آج متوقع

ترک اخبار حریت کے سینئر کالم نگار عبدالقادر سیلوی کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ اپنے S-400 فضائی دفاعی نظام ایک خلیجی ملک کو فروخت کر رہا ہے اس معاہدے کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے تاہم اس خبر کی ترکیہ یا متعلقہ ممالک کی جانب سے تاحال سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق، S-400 کا معاملہ ایک بار پھر اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کے خاتمے کا عندیہ دیا۔ یہ پابندیاں 2019 میں ترکیہ کی جانب سے روس سے S-400 نظام خریدنے کے بعد عائد کی گئی تھیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

عبدالقادر سیلوی کے مطابق ترک اہلکاروں نے روس میں S-400 نظام چلانے کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی اور ضرورت پڑنے پر یہ نظام فعال کیے جا سکتے تھے تاہم اس وقت ان کی موجودہ حیثیت کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی واضح معلومات دستیاب نہیں۔ ان کے بقول یہ واضح نہیں کہ یہ نظام اب بھی ترکیہ میں موجود ہیں محفوظ گوداموں میں رکھے گئے ہیں یا پہلے ہی کسی دوسرے ملک کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ S-400 نظام ایک خلیجی ملک کو فروخت کیے جا چکے ہیں اور معاہدے کی آخری تفصیلات گزشتہ رات مکمل کر لی گئی ہیں۔ اگرچہ بعض ذرائع متحدہ عرب امارات کو ممکنہ خریدار قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اطلاعات میں قطر کا نام لیا جا رہا ہے لیکن حتمی خریدار کے بارے میں سرکاری اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

سیلوی کے مطابق اگر ترکیہ S-400 فروخت کر دیتا ہے تو اس سے امریکہ کی CAATSA پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پابندیاں ختم کرنے کے لیے امریکی صدر کو کانگریس کو مطمئن کرنا ہوگا کہ S-400 نظام فعال نہیں ترکیہ کے پاس اب یہ نظام موجود نہیں اور مستقبل میں ترکیہ روس کے ساتھ اس نوعیت کا دفاعی تعاون نہیں کرے گا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد خلیجی ممالک اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں، جس کے باعث جدید دفاعی نظاموں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

عبدالقادر سیلوی کا مزید کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے تو ترکیہ کو نہ صرف مالی فائدہ حاصل ہوگا بلکہ CAATSA پابندیوں کے خاتمے KAAN جنگی طیارے کے منصوبے میں پیش رفت اور F-35 پروگرام سے متعلق امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں تاہم ان تمام نکات کی بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔

واضح رہے کہ یہ تمام معلومات ترک صحافی عبدالقادر سیلوی کی رپورٹ پر مبنی ہیں ترکیہ، امریکہ، روس یا کسی بھی ممکنہ خریدار ملک کی جانب سے اس معاہدے کی تاحال باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی

Read Previous

تعلیم کے ذریعے امن کا پیغام، کولمبیا میں ٹیکا نے جدید اسکول تعمیر کر دیا

Read Next

پولینڈ نے ترکیہ کو نیٹو کا اہم اتحادی قرار دے دیا، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

Leave a Reply