ترکیہ نے استنبول کے دو اہم تاریخی پلوں سمیت متعدد شاہراہوں کے آپریٹنگ حقوق 30 سال کے لیے نجی شعبے کو دینے کا منصوبہ دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کے دستخط کردہ حکم نامے کے تحت 15 جولائی شہداء پل اور فاتح سلطان محمد پل اس منصوبے کا مرکزی حصہ ہیں۔
منصوبے کے تحت پلوں اور شاہراہوں کی ملکیت ریاست کے پاس ہی رہے گی جبکہ نجی کمپنیوں کو ایک طے شدہ مدت کے لیے انہیں چلانے، دیکھ بھال کرنے اور معاہدے کے مطابق آمدن حاصل کرنے کے حقوق دیے جائیں گے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
منصوبے کا مقصد انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری لانا، شاہراہوں اور پلوں کی دیکھ بھال و جدید کاری کے لیے وسائل حاصل کرنا اور حکومت کے لیے اضافی آمدن پیدا کرنا ہے۔ اس پیکیج میں تقریباً 2,300 کلومیٹر شاہراہیں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ان اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے مختلف ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی سامنے آ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق فرانس کی Meridiam اور ترک کمپنی Makyol ممکنہ شراکت داری کے ذریعے بولی میں حصہ لینے پر غور کر رہی ہیں۔ IC İçtaş، Limak، Kalyon اور Cengiz Holding سمیت دیگر ترک کمپنیوں اور اسپین، جنوبی کوریا اور چین کے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم ابھی کسی کمپنی کو حتمی طور پر آپریٹنگ حقوق نہیں دیے گئے۔
ترکیہ اس سے قبل 2012 میں بھی دونوں پلوں اور تقریباً 2 ہزار کلومیٹر شاہراہوں کے آپریٹنگ حقوق نجی شعبے کو دینے کی کوشش کر چکا ہے۔ اس وقت 5.7 ارب ڈالر کی سب سے بڑی بولی موصول ہوئی تھی، تاہم حکومت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
موجودہ منصوبے میں حتمی ٹینڈر، کمپنیوں کے انتخاب، ٹول وصولی اور نجی آپریٹرز کی ذمہ داریوں سمیت دیگر شرائط آئندہ مراحل میں طے کی جائیں گی۔
