ترکیہ کے وزیر دفاع یاشار گولیر نے کہا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات محض دوستانہ روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک مشترکہ اقدار، تاریخی رشتوں اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔
پاکستان کے یوم دفاع و شہدا کے موقع پر انقرہ میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستانی عوام کو مبارکباد دی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
استقبالیہ تقریب میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید سمیت پاکستانی کمیونٹی نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ پاکستانی بچوں نے ملّی نغموں پر شاندار اسٹیج پرفارمنس بھی پیش کی۔

تقریب میں ترکیہ کی مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت بھی وزیر دفاع کے ہمراہ موجود تھی۔ یاشار گولیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے تاریخ کے مختلف ادوار میں خوشی اور مشکل دونوں مواقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ دونوں اقوام کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات مشکل وقت میں باہمی یکجہتی کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے لیے پاکستان صرف ایک دوست ملک نہیں بلکہ اس کی ’’روحانی جغرافیہ‘‘ کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، دفاعی و سلامتی، اقتصادی، تعلیمی اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون روز بروز وسیع ہو رہا ہے۔
ترکیہ کے وزیر دفاع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون اس اسٹریٹجک شراکت داری کے مضبوط ترین ستونوں میں سے ایک ہے۔ مشترکہ تربیتی سرگرمیوں اور فوجی مشقوں، اہلکاروں کے تبادلوں اور تجربات کے باہمی اشتراک نے دونوں افواج کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کیا ہے۔
یاشار گولیر نے پاکستان آرمی کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا کہ اس نے گزشتہ ہفتے ترکیہ کے یوم فتح، 30 اگست، کے موقع پر خصوصی استقبالیہ منعقد کرکے ترکیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں پاکستانی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس سلسلے میں کاوشوں کو بھی سراہا۔
ترکیہ کے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ اپنے اپنے ممالک کی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور عالمی سلامتی کے قیام کے لیے بھی اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔ ان کے مطابق پاکستان نے فریقین کے درمیان ملاقاتوں کی میزبانی، تنازع روکنے کے لیے فعال اور تعمیری کردار اور دیرپا امن کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششیں کیں، جنہیں عالمی برادری نے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
یاشار گولیر نے کہا کہ ترکیہ اس اہم معاملے پر پاکستان کے ساتھ قریبی مشاورت اور رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے قائدانہ کردار کو اہمیت دیتا ہے۔
ترکیہ کے وزیر دفاع نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو تینوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات اور باہمی اعتماد کو اسٹریٹجک سطح پر مزید مضبوط کرتا ہے۔ ان کے مطابق اجتماعی دفاعی صلاحیت پر مبنی یہ معاہدہ مشترکہ سلامتی کو تقویت دینے کے ساتھ فوجی شعبے میں باہمی تعاون اور دفاعی صنعت کے درمیان شراکت داری کو بھی آگے بڑھائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے نتیجے میں خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا جا سکے گا۔
یاشار گولیر نے بتایا کہ مکہ دفاعی اتحاد کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس رواں ہفتے ترکیہ کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں تینوں ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
اجلاس میں اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے اور تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے اصولوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے پاس اہم دفاعی صلاحیتیں، وسیع وسائل اور مختلف شعبوں میں تجربہ موجود ہے اور تینوں ممالک کی مشترکہ کوششیں خطے کے لیے مثبت نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔
