Turkiya-Logo-top

کراچی میں ترکیہ بورسِلاری 2026-27 کے پاکستانی اسکالرشپ ہولڈرز کی تعارفی نشست

پاکستان میں ترکیہ کے سابق طلبہ کی تنظیم ٹولِپ (TULIP) کی دعوت پر کراچی میں ترکیہ کے قونصل خانے نے ترکیہ بورسِلاری 2026-27 کے پاکستانی اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے تعارفی نشست کا اہتمام کیا۔

کراچی میں ترکیہ کے قونصل جنرل ارگُل کادک نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اسکالرشپ حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور ان کے تعلیمی سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

پاکستانی طلبہ کی نمائندہ تنظیم ینگ پاکستانی اسٹوڈنٹس سوسائٹی (YPSS) کے صدر محمد عمر خان نے ترکیہ میں اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر طلبہ کو آگاہ کیا، جبکہ ٹولِپ کراچی کے کوآرڈینیٹر عبدالکریم جواد نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

ترکیہ بورسِلاری ترکیہ حکومت کا بین الاقوامی طلبہ کے لیے سرکاری اسکالرشپ پروگرام ہے، جس کے تحت دنیا بھر سے طلبہ کو ایسوسی ایٹ، بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی سمیت مختلف اعلیٰ تعلیمی پروگراموں کے لیے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسکالرشپ میں یونیورسٹی اور شعبے میں تقرری، ٹیوشن فیس، رہائش، صحت کا بیمہ، ایک سالہ ترک زبان کا کورس اور ایک مرتبہ کا فضائی ٹکٹ شامل ہے، جبکہ ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ ایک مسابقتی اور میرٹ کی بنیاد پر دیا جانے والا پروگرام ہے، جس میں امیدواروں کی تعلیمی کارکردگی سمیت مختلف معیار کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ 2026 کے لیے اسکالرشپ کی درخواستیں دنیا بھر کے طلبہ سے 10 جنوری سے 20 فروری 2026 تک وصول کی گئیں۔

مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک

ترکیہ بورسِلاری کے تحت دنیا بھر میں سابق طلبہ کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جس میں 160 سے زائد ممالک کے ایک لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ارکان شامل ہیں۔ یہ سابق طلبہ مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ترکیہ کے ساتھ اپنے ممالک کے درمیان تعلیمی، سماجی اور پیشہ ورانہ روابط برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان میں ٹولِپ اسی سابق طلبہ نیٹ ورک کے تحت نئے اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ اور ترکیہ سے فارغ التحصیل سابق طلبہ کے درمیان رابطے، رہنمائی اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دے رہی ہے، جبکہ کراچی میں ہونے والی یہ نشست بھی نئے اسکالرشپ ہولڈرز کو ان کے آئندہ تعلیمی سفر کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

Read Previous

ازبک میڈیا وفد کا پاکستانی وزارتِ خارجہ اور میڈیا اداروں کا دورہ

Read Next

پاک فوج اور امریکی دفاعی کمپنی پاور یوایس کے درمیان ڈرون معاہدہ طے پا گیا، رائٹرز

Leave a Reply