ترکیہ کے نئے آئین کی تیاری کے لیے ابتدائی فکری کام شروع ہونے کا عندیہ دے دیا گیا ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر مہمت اوچوم کا کہنا ہے کہ یکم اکتوبر کو نئے آئین کی تیاری کے عمل کی ابتدائی تاریخ قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ 2028 کے انتخابات کے بعد نئی پارلیمنٹ کے دور میں آئینی مسودہ تیار کرنا ایک حقیقت پسندانہ ہدف ہے۔
مہمت اوچوم جو صدارتی قانونی پالیسی بورڈ کے نائب چیئرمین بھی ہیں نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نئے آئین کے بنیادی اصولوں، فکری بنیادوں اور ممکنہ خدوخال پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق اس عمل میں صرف سیاسی جماعتوں کی ترجیحات کو نہیں بلکہ عوام کے مطالبات اور ضروریات کو بھی بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے یکم اکتوبر کو ترک پارلیمنٹ کے نئے قانون ساز سال کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر نئے آئین کی تشکیل کے لیے متحد ہوں۔ انہوں نے اس مقصد کو ’’ترکیہ کا عظیم اتفاقِ رائے‘‘ قرار دیا تھا۔
ایردوان نے اپنے خطاب میں نئے آئین کی ضرورت پر خصوصی توجہ دی۔ ان کا مؤقف ہے کہ ترکیہ کو ایک ایسا سویلین آئین درکار ہے جو موجودہ دور کی ضروریات اور ملک کے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
مہمت اوچوم نے بتایا کہ انقرہ میں وزیرِ انصاف آقن گورلیک کے ساتھ قانونی پالیسی بورڈ کے اجلاس میں بھی نئے آئین کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں مکمل مسودہ تیار کرنے کے بجائے آئین کے بنیادی اصولوں اور حکومتی نظام کے حوالے سے مشترکہ مؤقف تشکیل دینا زیادہ مناسب ہوگا۔

مہمت اوچوم کے مطابق ترکیہ میں نئے سویلین آئین کی ضرورت پر کئی دہائیوں سے بحث جاری ہے اور 1987 سے یہ معاملہ ملک کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتیں بھی نئے آئین کی تشکیل کے وعدے کرتی رہی ہیں تاہم اب اس حوالے سے مخصوص امور پر باقاعدہ بحث آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2028 کے انتخابات سے قبل باقی وقت کو نئے آئین کی فکری اور نظریاتی بنیادیں تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول، 2028 کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ کی 29ویں مدت کے دوران نئے آئین کا مسودہ تیار کرنا ایک حقیقت پسندانہ ہدف ہو سکتا ہے۔
اوچوم نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم اور مکمل طور پر نئے آئین کی تشکیل الگ الگ عمل ہیں، اس لیے موجودہ آئینی ترامیم کے طریقۂ کار کو نئے آئین کی تیاری پر اسی انداز میں لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
مہمت اوچوم نے موجودہ آئینی طریقۂ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں کم از کم 360 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ 400 یا اس سے زیادہ ووٹ ملنے کی صورت میں ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ اختیاری ہو سکتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق نئے آئین کے معاملے میں پارلیمانی حمایت کے باوجود عوامی منظوری ضروری ہوگی۔
انہوں نے کہا، ’’ارکان کی تعداد سے قطع نظر، چاہے 550 سے 600 ارکانِ پارلیمنٹ بھی اس کی منظوری دے دیں، نیا آئین عوامی ریفرنڈم کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتا۔ اسے حتمی منظوری عوام سے ہی حاصل کرنا ہوگی۔‘‘
اوچوم کا کہنا تھا کہ آئین کی تیاری کا عمل عوامی خواہش سے شروع ہونا چاہیے اور اسی عوامی خواہش پر اختتام پذیر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر نئے آئین کو وسیع سماجی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر تیار کیا گیا تو اسے ریفرنڈم میں بھی مضبوط عوامی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔
ترکیہ میں نئے سویلین آئین کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟
ترکیہ کا موجودہ آئین 1982 میں منظور کیا گیا تھا، جب ملک فوجی حکمرانی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس کے بعد کئی دہائیوں کے دوران آئین میں متعدد ترامیم کی گئیں، جن میں 2017 کی آئینی ترمیم نمایاں ہے۔
2017 کے ریفرنڈم کے نتیجے میں ترکیہ میں پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی جانب منتقلی کی راہ ہموار ہوئی، جس کے تحت صدر کے اختیارات اور حکومتی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔
صدر رجب طیب ایردوان اور ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرتلمش متعدد مواقع پر نئے سویلین آئین کی حمایت کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ متعدد ترامیم کے باوجود موجودہ آئین میں اب بھی فوجی دور کے اثرات موجود ہیں اور ملک کو ایک نئے آئینی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
نعمان قرتلمش نے اگست 2026 میں کہا تھا کہ ترکیہ کا سیاسی ماحول اور سیاسی مکالمے کی سطح اس حد تک پختہ ہو چکی ہے کہ نئے سویلین آئین پر کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسے ملک کا ایک دیرینہ قومی ہدف قرار دیا تھا۔
مہمت اوچوم کے مطابق نئے آئین کی تشکیل میں سب سے اہم معاملات میں سے ایک ترکیہ کے مستقبل کے حکومتی نظام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے۔
ترکیہ کی بعض سیاسی جماعتیں موجودہ صدارتی نظام کو برقرار رکھنے اور اس میں بہتری لانے کی حمایت کرتی ہیں۔ اس نظام کے تحت صدر براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے اور اسے مختلف شعبوں میں صدارتی فرمان جاری کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔
دوسری جانب بعض سیاسی جماعتیں پارلیمانی نظام کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہیں، جبکہ نیم صدارتی نظام کا امکان بھی سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے۔
اوچوم نے کہا کہ اگر نئے آئین کو ’’ترکیہ کے عظیم اتفاقِ رائے‘‘ کی بنیاد پر تیار کرنا ہے تو سب سے پہلے حکومتی نظام کے ماڈل پر اتفاق کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ بھی طے کرنا ضروری ہوگا کہ نئے آئین میں ملک کے مستقبل کے لیے کس نوعیت کا وژن پیش کیا جائے گا۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
انہوں نے واضح کیا کہ صدارتی قانونی پالیسی بورڈ کو آئین کا حتمی متن تیار کرنے کا براہِ راست اختیار حاصل نہیں، تاہم بورڈ آئینی بحث میں اپنی تجاویز اور خیالات پیش کر سکتا ہے۔
مہمت اوچوم کے مطابق ترکیہ میں گزشتہ برسوں کے دوران آئین کے متعدد مسودے تیار کیے جا چکے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ابتدا ہی میں مکمل مسودہ سامنے لانے کے بجائے بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے، تاکہ نئے آئین کی تشکیل کے لیے ایک مشترکہ فکری بنیاد قائم ہو سکے۔
