مقبوضہ کشمیر کے مساجد میں جمعے کے خطبات کو یکساں بنانے کی تجویز پر سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ مقامی مذہبی رہنماؤں نے اسے مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے، جبکہ وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد معاشرتی مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق جموں و کشمیر وقف بورڈ نے گزشتہ ہفتے تجویز پیش کی تھی کہ خطے کی مساجد میں جمعے کے خطبات کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
وقف بورڈ کی سربراہ درخشاں اندرابی کا تعلق انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہے۔ ان کے مطابق مذہبی علما پر مشتمل ایک کمیٹی خطبات کے موضوعات کا تعین کرے گی، تاکہ منشیات کے استعمال سمیت مختلف معاشرتی مسائل پر بات کی جا سکے۔
انھوں نے کہا تھا کہ جمعے کے خطبات کی منظوری مذہبی علما دیں گے اور کسی سرکاری اہلکار کا اس فیصلے میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔
مذہبی رہنماؤں نے مخالفت کیوں کی؟
رپورٹ کے مطابق وقف بورڈ نے اتوار کو کشمیر کے تقریباً 1500 علما اور خطیبوں کا اجلاس بلایا تھا۔ بعض علما اجلاس میں براہِ راست شریک ہوئے جبکہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں نے آن لائن شرکت کی۔
ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے ایک عالم نے الجزیرہ کو بتایا ہےکہ اجلاس میں شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ سینئر علما کی ایک کمیٹی جمعے کا خطبہ تیار کرے گی، جسے مساجد میں یکساں طور پر پڑھا جائے گا۔
ان کے مطابق اجلاس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کمیٹی میں کون سے علما شامل ہوں گے۔
مذکورہ عالم کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اس تجویز پر اعتراض کیا تو ان کے تحفظات نہیں سنے گئے۔
کشمیر کے اہم مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے مترادف ہوگا۔
ان کی سربراہی میں قائم متحدہ مجلسِ علما نے مؤقف اختیار کیا کہ جمعے کے خطبات کے موضوعات کا تعین کرنا مذہبی علما کی ذمہ داری ہے، کسی انتظامی ادارے کی نہیں۔
سیاسی رہنماؤں کا ردعمل
کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی وقف بورڈ کی تجویز پر ہونے والی تنقید کی حمایت کی۔
سابق وزیر تعلیم نعیم اختر نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا ہےکہ ہر خطیب کو اپنے سامعین کے سامنے اپنی پسند کے موضوع پر گفتگو کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے۔
مزید اپڈیٹس کیلئے وٹس ایپ چینل فالو کریں: چینل لنک
ان کے مطابق وقف بورڈ کا کام مذہبی اداروں کے انتظامی معاملات دیکھنا ہے، نہ کہ علما کو یہ ہدایات دینا کہ وہ خطبات میں کیا کہیں۔
انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا انڈیا میں کوئی مسلم سیاسی جماعت ہندو پجاری یا مسیحی مذہبی رہنما کو یہ ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ اپنی عبادات یا مذہبی خطبات کس طرح انجام دیں؟
