ترکی پہلوان اولمپیکس میں گولڈ میڈل جیتنے کا خواہشمند

ترکی سے تعلق رکھنے والے ایک اولمپک چیمپئن ، طاہا اکگل نے اپنے ایک بیان میں کہا  کہ وہ 2020 کے ٹوکیو اولمپکس میں ایک اور گولڈ میڈل حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے کندھے پر لگی گہری چوٹ سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

اکگل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں ترکی کی قومی ٹیم کے کیمپ میں بہت سنگین چوٹ لگی تھی۔ انہوں  نے ایک منتشر کالربون کو برداشت کیا اور اس وقت اس کی سرجری کروائی گئی۔ انکے لیے  6 ماہ کے عرصے میں اولمپکس کے لیے تیار ہونا بہت مشکل تھاجسکی وجہ سے وہ بہت افسردہ تھے۔

انکا مزید  کہنا تھا کہ 2020 میں آنے والا لورونا وائرس انکے لیے خدا کی طرف سے ایک تحفہ تھا کہ 2020 کے اولمپیکس 2021 تک کے لیے ملتوی کر دیے گئے تھے اور اس دوران میں انکا علاج بہت اچھے طریقے سے مکمل ہو سکا۔

29 سالہ اکگل نے 2016 کے ریو اولمپکس میں 125 کلوگرام فری اسٹائل میں اولمپیکس میڈل جیتا تھا۔

اکگل نے کہا کہ وہ اپنا دوسرا اولمپک میڈل جیتنا چاہتے ہیں۔

اگلے سال  ٹوکیو اولمپکس 23 جولائی سے8اگست کے درمیان منعقد ہوں گے۔

انکا کہنا تھا کہ  جب وہ 2016 میں ریو گئے تھے تو انہوں نے  5 بار یورپی اور 2 بار عالمی  چیمپین کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔

انہوں نے اولمپک کی شروعات لندن 2012 کے کھیلوں میں قومی ٹیم کے سب سے کم عمر رکن اور انتہائی ناتجربہ کار کی حیثیت سے کی تھی۔

اکگل نے کہا کہ وہ سربیا میں ہونے والی ورلڈ چیمپیئن شپ کو اولمپکس کی ریہرسل کے طور پر دیکھتے ہیں لہذا وہ اس ٹورنامنٹ میں خود کو ٹیسٹ کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ بلغراد دسمبر کے مابین ورلڈ چیمپیئن شپ کی میزبانی کرے گا۔

Read Previous

ترکی کو کبھی بھی اپنا اہم اتحادی نہیں سمجھا، روسی وزیر خارجہ کا انکشاف

Read Next

فرانس کے الجیریا کی عوام پر ظلم، 1961 میں 400 شہریوں کا قتل عام کیا

Leave a Reply