ترکی کو کبھی بھی اپنا اہم اتحادی نہیں سمجھا، روسی وزیر خارجہ کا انکشاف

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ترکی کو کبھی بھی اپنا اہم اتحادی نہیں سمجھا بلکہ وہ صرف ایک قریبی دوست ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مشرق وسطیٰ کے معاملے پر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔

روسی ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے سرگئی لاروف نے کہا کہ ایک قریبی دوست کی حیثیت سے ترکی کے ساتھ بہت سے شعبوں میں اہم معاہدے بھی کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ دونوں ملکوں نے حالیہ کچھ برسوں میں خطے کے تنازعات پر اختلافی پوزیشن بھی لی ہے جیسے حال ہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کی نیگورنو کاراباخ معاملے پر جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس ترکی کے اس موقف کی حمایت نہیں کرتا اور آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ تنازعے کو جنگ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح شام کے معاملے پر بھی دونوں ملکوں میں اختلاف ہے۔ روس شام کے صدر بشارالاسد جبکہ ترکی اپوزیشن کی حمایت کر رہا ہے۔

لیبیا میں بھی روس باغی ملیشیا کے خلیفہ ہفتار کو مدد فراہم کر رہا ہے جبکہ ترکی اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکورڈ کو سپورٹ کرتا ہے۔

نیگورنو کاراباخ کے حالیہ تنازعے میں روس آرمینیا کو نہ صرف فوجی مدد دے رہا ہے بلکہ اس کی حمایت بھی کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف ترکی اپنے برادر اسلامی ملک آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے۔

ان تمام اختلافات کے باوجود دونوں ملکوں نے کئی مواقع پر سیاسی معاہدے بھی کئے اور لیبیا سمیت شام میں جنگ بندی کے معاہدے بھی ہوئے۔

دونوں ملکوں کی فوج کبھی بھی آمنے سامنے نہیں آئی۔

Read Previous

ترکی کے جدید دفاعی ہتھیار، یوکرین بھی خریداروں میں شامل

Read Next

ترکی پہلوان اولمپیکس میں گولڈ میڈل جیتنے کا خواہشمند

Leave a Reply