fbpx

ترکی کی سیاحت کل اور آج

تحریر:مرشد مسعود قاضی

ٹورزم انڈسٹری میں ترکی کے ریونیو کا حجم 35 بلین ڈالر سالانہ ہے جو ہماری کل ایکسپورٹ سے تقریباً دوگنا ہے۔

1990کی بات ہے جب میں  پہلی دفعہ ترکی میں اترا تھا ائرپورٹ سے باہر آتے ہی ڈرائیوروں کے آپس میں  ایک اچھے خاصے جھگڑے کے بعد ایک ڈرائیور نے مجھے اچک لیا۔

اور ہم استنبول شہر کی طرف روانہ ہوۓ

اسلام آباد کے پرانے بے نظیر ائرپورٹ کی حالت

ایرپورٹ سے بدتر اور ٹیکسیوں کی حالت ہماری آج کی اسلام آباد میں چلنے والی سوز وکی اور کراچی میں ڈاٹسن ٹیکسیوں سے بھی گئ گزری ، ائرپورٹ پر ہی منی چینجر نے سو ڈالر کے عوض لیروں سے جیبیں ٹھونس دی تھیں  کوئ دس ہوٹل دیکھنے کے بعد ایک سڑاند کی خوشبو سے آراستہ ہوٹل رہنے کو ملا جو چار ستاروں کا حامل تھا۔

خیر سامان رکھنے کے بعد باہر چہل قدمی شروع ہوئ تو گلیاں کچرے سے اٹی ہوئیں کھلی نالیوں سی بدبو کے بھبھکے ، سنجیدہ اور متفکر چہرے ، علیحدگی پسند کردوں کے آۓ روز بم دھماکے اور مہنگائ کا یہ عالم کہ جیبیں لیروں کا بوجھ ہلکا کرنے لگیں  سارے رستے فٹ پاٹھ کے دونوں اطراف کھڑے ہوۓ  لوگوں کے خوانچوں والوں کی طرح نعرے  مادام مادام

میرے ذہن میں تو ہماری ایک ہی مادام ہوتی تھیں مادام نور جہان ، میں سمجھا کہ شاید کوئ کنسرٹ ہو رہا ہے اور یہ لوگ اس کے ٹکٹ بیچ رہے ہیں۔

ہوٹل واپسی پر ان لوگوں سے جب تحقیق کی تو پتا چلا کہ یہ مادام وہ نہیں بلکہ مختلف ممالک سے آئ ہوئ جسم فروش عورتیں ہیں جن کے لیئے یہ اصحاب  مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔

بلکہ ایک صاحب تو اتنی لجاجت سے ماداموں کی خصوصیات بیان کرنے لگے کہ اگر ہوٹل کا دروازہ نہ آ جاتا تو مرشد گۓ تھے کام سے۔

! ایجنٹ وہاں ہر طرف بو سونگھتے پھرتے تھے

ترکی یورپ جانے والے لوگوں کا پڑاؤ اور یورپ سے پاکستان اور انڈیا یا نیپال جانے والوں سیاحوں کا گیٹ وے ہوتا تھا

وہاں ٹھہرتا کوئ نہیں تھا

مختصرا یہ حالت تھی اس وقت استنبول کی  !

پھر ایک مرد آیا پہلے استنبول کا میئر بنا

وہاں کے حالات سدھرنے شروع ہوۓ

ٹورزم انڈسٹری کو پوری شدومد سے توجہ دی گئ  بعد میں وہ وزیر اعظم اور پھر صدر بنا

اسے دنیا طیب ایردوان کے نام سے جانتی ہے

عام لوگوں کو کو ۔آپ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹورزم انڈسٹری کی طرف راغب کیا گیا  ملک بھر میں ریزورٹس کا جال بچھایا گیا  ساری دنیا میں ترکی کے چند مشہور مقامات کی تشہیر کی گئ علیحدگی پسند کردوں  کی شورش پر قابو پایا گیا

مواصلات کا انفراسٹرکچر بہتر بنایا گیا اور پاکستان سے پچاس فیصد کم

Attractions

رکھنے کا حامل ملک

35 بلین ڈالرز کی ٹورزم انڈسٹری کھڑی کرنے میں کامیاب ہو گیا 

انشاءاللہ  ہم بھی حکومتی اور عوامی سطح پر مذہبی ، سیاحتی اور آثار قدیمہ کے خزانوں کے انبار سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی ہر ممکن تشہیر بھی کریں گے

اس انڈسٹری جسے ہم نے اگنور کیا ہوا تھا اسے 40 بلین ڈالر سالانہ کے ریوینیو کے ٹارگٹ کا حصول ہر حال میں  ممکن بنانے کے لیئے اپنی ہر کوشش کو بروۓ کار لائیں گے

انشاءاللہ 

پاکستان کی تشہیر کریں مثبت انداز سے

بلاگز ، مضامین ، وی لاگز ، تصاویر  اور وڈیوز کے ذریعے

اور پیسے بینکوں سے نکال کر ٹورزم پراپرٹی میں انوسٹ کریں

پاکستان پائندہ باد

مرشد مسعود قاضی

نےامریکی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل مارکیٹنگ میں ماسٹر کیا ہوا ہے ۔ بفیلو، نیو یورک میں مقیم ہیں اور دو دہائیوں سے عالمی سیاحت سے وابستہ ہیں۔

Follow us on

Twitter: https://twitter.com/TurkeyUrdu

YouTube: https://www.youtube.com/channel/UCRo4QJqgC7Ad-2bqVCZ2pYQ

Facebook: https://www.facebook.com/TurkeyUrdu1​​

Instagram: https://www.instagram.com/turkey_urdu/

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

پشاور زلمی اور ترکش ائیر لائنز کے درمیان معاہدہ طے پاگیا

اگلا پڑھیں

پاکستان کے بغیر ایشیا ترکی اور آذربائیجان کے بغیر یورپ تک رسائی ممکن نہیں

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے