ترک صدر ایردوان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب

اقوام متحدہ کی  سفارتی کامیابی

صدر ایردان  نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا   کہ  جنگ کی وجہ سے یوکرین میں پھنسے اناج کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ترکیہ کی  جانب سے ثالثی کا معاہدہ حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ساتھ ہماری انتھک کوششوں کے نتیجے میں، ہم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یوکرائنی اناج بحیرہ اسود کے راستے دنیا تک پہنچے اور دنیا کو غذائی بحران سے  بچایا جا سکے

یہ معاہدہ، جو عالمی اناج کی سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے

ترکیہ، اقوام متحدہ، روس اور یوکرین نے 22 جولائی کو استنبول میں ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت یوکرین کے بحیرہ اسود کی تین بندرگاہوں سے اناج کی برآمدات دوبارہ شروع کی گئیں ، جو فروری میں روس-یوکرین تنازعہ شروع ہونے کے بعد روک دی گئی تھیں۔

روس -یوکرین  جنگ

صدر رجب طیب ایردوان  نے  کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ایک درمیانی راستہ فوری طور پر نکالا  جائے  جس سے دونوں ممالک  کے وقار قائم رہیں

انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ایک ساتھ مل کر، ہمیں ایک معقول سفارتی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو دونوں فریقوں کو بحران سے نکلنے کا باوقار راستہ فراہم کرے۔”

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کی بنیاد یوکرین کی علاقائی سالمیت کے تحفظ پر ہونی چاہیے۔

ہم جلد روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے اور دونوں  ممالک کے درمیان ثالثی  کی کوششوں میں تیزی لائیں گے اور اس بات کا بھی خاص خیال رکھیں گے کہ یوکرین کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی  نہ ہو۔

صدر نے تمام ممالک سے تعاون کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا میں بین الاقوامی تنظیموں اور تمام ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ترکیہ کی کوششوں کی مخلصانہ حمایت کریں۔”

دو ریاستی حل

صدر نے  فلسین تنازع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اسرائیل فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے جسے ہم  مشرق وسطیٰ میں مستقل امن اور استحکام کے قیام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے طور پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے علاوہ منصفانہ، دیرپا اور جامع حل کا کوئی دوسرا امکان نہیں ہے۔

صدر نے مزید کہا کہ یروشلم کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کا احترام کرنا، مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو روکنے اور فلسطینیوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا بے حد  ضروری ہے۔

ایردوان  نے کہا کہ ہم امن، استحکام ،اپنے ملک ، فلسطینی عوام اور خطے کے مستقبل کی خاطر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

یونان کی  پناگزنیوں کے حوالے سے لاپرواہی

صدر نے یونان کی بحیرہ  ایجیئن  میں  غیر قانونی کاروائیوں کی طرف توجہ دلواتے ہوئے کہا کہ یونان  کی جانب سے   تارکین وطن پر ظلم و ستم میں اضافہ ہوا ہے ، صدر ایردوان نے کہا کہ اس ملک نے بحرہ ایجیئن کو غیر قانونی اور لاپرواہی کے ساتھ پناہ گزینوں کے   قبرستان میں تبدیل کردیا ہے۔ صدر نے جنرل اسمبلی کو تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ  گزشتہ ہفتے   ، "9 -ماہ کے شیر خوار بچے  عاصم  ، 4 سالہ عبد الوحم اور اس کے اہل خانہ ، یونانی کوسٹ گارڈ فورسز کی جانب سے کشتیاں ڈبوی جانے کے نتیجے میں جان بحق ہوگئے ۔

صدر ایردوان   نے ایتھنز انتظامیہ کی اشتعال انگیزی اور پیدا کردہ کشیدگی   کو ایک طرف رکھتے ہوئے اقوام متحدہ اور  تمام ممالک   کو  شمالی  قبرصی ترک جمہوریہ  کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے  کی دعوت دی۔

شامی بحران

شام کے بحران کے حوالے سے صدر ایردوان  نے  کہا کہ شامی عوام کی جائز توقعات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کی بنیاد پر  مسئلے  کا دیرپا حل تلاش کرنے کی اہمیت کو دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ تعطل کا تسلسل ہمارے خطے کی سلامتی اور استحکام اور شام کی علاقائی سالمیت دونوں کے لیے ؤ خطرہ کی  کھنٹی  ہے۔

Read Previous

روسی صدر یوکرین سے جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، صدر ایردوان

Read Next

عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی مدد کریں، صدر ایردوان

Leave a Reply