پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں، اوز استنبول کے وائس چیئرمین عور کہرمان

پاکستان اور ترکی کی باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ترک کمپنی اوز استنبول گروپ آف کمپنیز نے اپنا ایک دفتر اسلام آباد میں کھول لیا ہے۔

اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک کمپنی کے وائس چیئرمین عور کہرمان نے کہا کہ باہمی تجارت کے بہت سے مواقع موجود ہیں جنہیں استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک عوام کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ترکی اور پاکستان کے عوام کی دوستی غیر متزلزل ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ترک پاکستانی عوام کی دل و جان سے عزت اور احترام کرتے ہیں۔ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ پاکستان کے عوام نے ہمیں جو محبت اور پیار دیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔

 نیشنل پریس کلب نے ہمارا شاندار استقبال کر کے بہترین مہمان نوازی کا ثبوت دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ ترکی اور پاکستان کی دوستی قدیم ترین ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور ہمدردی کے جذبات موجود ہیں۔ ہم چاہتے ہیں دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور سفارتی تعلقات مضبوط سے مضبوط ہوں۔ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں۔

تقریب سے سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے خطاب کرتے ہوئے ترک وفد کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے ترکی میں اپنے دورے کے دوران مثالی مہمان نوازی پر ترک حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا کہ وہ اپنے گھر آئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور محبت کے رشتے قائم و دائم رہیں گے۔

 صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے عوام کے دل ترک عوام کیساتھ دھڑکتے ہیں۔ ترکی سے جو بھی وفود آئیں گے ہم انہیں نیشنل پریس کلب میں خوش آمدید کہیں گے۔

اس موقع پر چیئرمین لینڈ پاکستان نصیب اللہ نصیب نے کہا کہ لینڈ پاکستان گروپ آف کمپنیز بیس سال سے پاکستان میں شعبوں میں کام کر رہی ہے۔

لینڈ پاکستان نے ترکی کی کمپنی اوز استنبول سے اشتراک کیا ہے۔ ترک شہریت ، ریئل سٹیٹ ، ویزہ ، ورک پرمٹ ، رہائشی پرمٹ ، سیاحت اور تعلیم کے شعبے میں دونوں کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں گی۔

نہ صرف پاکستانی بلکہ ترک شہری بھی پاکستان میں ان تمام شعبوں میں سرمایہ کاری اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں

تقریب کے اختتام پر ترکی سے آئے وفد کو اعزازی شیلڈز اور سندھی اجرک اور ٹوپیاں بھی تحائف میں دی گئیں۔

Read Previous

کورونا وائرس انسانی ذہن کوبری طرح متاثر کر سکتا ہے

Read Next

رواں ہفتے تھیٹر میں آ ٹھ فلمیں دکھائی جائیں گی

Leave a Reply