ترکی اور لیبیا کے تاجروں کا کاروبار کے نئے راستے کھولنے کا فیصلہ

ترکی اور لیبیا کے تاجروں کا ایک اہم اجلاس استنبول میں ہو رہا ہے۔ ترکی فارن اکنامک ریلیشنز بورڈ نے لیبیا ترکی بزنس پلیٹ فارم کے تحت دونوں ملکوں کے تاجروں کو اکٹھا کیا ہے۔

ترکی اور لیبیا کے اعلیٰ حکام، نجی شعبے کی کمپنیاں اور این جی اوز اس اجلاس میں شرکت کر رہی ہیں۔ اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے پر بات چیت کی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

اس موقع پر ترک فارن اکنامک ریلیشنز بورڈ اور لیبیا کی جنرل فیڈریشن آف چیمبرز اینڈ کامرس انڈسٹری کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط بھی کئے جائیں گے۔

لیبیا کی جنرل فیڈریشن آف چیمبرز کے صدر محمد عبدالکریم نے کہا کہ خطے میں دونوں ملک ایک اہم وقت سے گزر رہے ہیں۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ مختلف اشیا کی تجارت کو فروغ دے سکتے ہیں اور اس کے لئے بارٹر سسٹم سب سے بہترین پالیسی ہو گی جس سے دونوں ملکوں کے زرمبادلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

عبدالکریم نے کہا کہ 2010 میں ترکی اور لیبیا کی باہمی تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تھا۔ اس وقت لیبیا کی جو معاشی اور سیکیورٹی صورتحال ہے اس میں سرمایہ کاری کے ذریعے بہتری لائی جا سکتی ہے۔

لیبیا ترکی بزنس کونسل کے صدر مرتضیٰ کرنفل نے کہا کہ ترکی کے 100 صنعتکار اور ایکسپورٹرز جبکہ لیبیا سے 200 تاجروں کا ایک وفد اجلاس میں شرکت کر رہا ہے۔ لیبیا ترکی کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ 1972 سے اب تک ترکی نے لیبیا میں صرف تعمیراتی شعبوں میں 29 ارب ڈالر کے مختلف منصوبے مکمل کئے ہیں۔

گذشتہ سال دونوں ملکوں کا تجارتی حجم ڈھائی ارب ڈالر تھا جس کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ترکش ایکسپورٹرز اسمبلی کے ڈپٹی چیئرمین بسران بیراک نے بتایا کہ لیبیا کی امپورٹس میں ترکی دوسرا بڑا ملک ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 10 ارب ڈالر کی تجارت کے وسیع امکانات ہیں جو ابھی صرف 3 ارب ڈالر سالانہ ہے۔

Read Previous

پاکستان: فوجی قافلے پر دہشت گرد حملہ، 6 فوجی اہلکار شہید

Read Next

روس اور شام ادلب میں جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب، ہیومن رائٹس واچ

Leave a Reply