Turkiya-Logo-top

ترک انٹیلی جنس سربراہ کا امریکہ-ایران جنگ بندی کا خیرمقدم، مگر لبنان میں اسرائیلی کردار پر تشویش

ترکیہ کی قومی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ ابراہیم قالن نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے تاہم خطے میں پائیدار امن کے لیے ابھی کئی اہم چیلنجز باقی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یہ معاہدہ عالمی توانائی منڈیوں اور بحری تجارت کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے لیکن آئندہ جوہری مذاکرات اس جنگ بندی کی اصل آزمائش ہوں گے۔

ابراہیم قالن کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ خوش آئند ہے تاہم اس کے نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی انتظار ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے 60 دن انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اور پیچیدہ مسائل پر براہ راست مذاکرات متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی مذاکرات سے جنگ بندی کی کامیابی یا ناکامی کا تعین ہوگا

ترک انٹیلی جنس سربراہ نے معاہدے کے لیے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے والے ممالک کو مبارکباد دی اور خاص طور پر پاکستان اور قطر کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری لائے گی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور امن کی راہ بھی ہموار کرے گی

اسرائیلی قیادت نے واضح کیا ہے کہ لبنان سے متعلق بعض شقیں ان کی پالیسی پر لاگو نہیں ہوتیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی سکیورٹی پالیسی برقرار رکھیں گے۔

یہ مؤقف خطے میں کشیدگی کے مکمل خاتمے کے امکانات کو متاثر کر سکتا ہے اور ترکیہ سمیت کئی علاقائی ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

ترکیہ اس معاہدے کو ایک مثبت سفارتی کامیابی قرار دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سمجھتا ہے کہ موجودہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کے تمام تنازعات کا حتمی حل نہیں۔

ترک حکام کے مطابق لبنان میں اسرائیلی سرگرمیوں اور ایران کے جوہری پروگرام پر متوقع مذاکرات کے نتائج ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ جنگ بندی عارضی ثابت ہوتی ہے یا خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔

Read Previous

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے برطانوی وزیر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون اور علاقائی امن پر گفتگو

Read Next

"یہ ہماری ثقافت ہے” جاپانی شائقین نے اسٹیڈیم صاف کر کے دنیا کو متاثر کر دیا

Leave a Reply