فیفا ورلڈ کپ 2026 میں جاپان کے فٹبال شائقین نے ایک بار پھر میچ کے بعد اسٹیڈیم کو مکمل طور پر صاف کر کے سب کی توجہ حاصل کر لی، اور واضح کیا کہ یہ ان کی “ثقافت، تربیت اور طرزِ زندگی” کا حصہ ہے۔
آرلنگٹن، ٹیکساس میں نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گئے میچ کے بعد، جو 2-2 سے برابر رہا، جاپانی مداح اسٹیڈیم میں رک گئے اور نہایت منظم انداز میں اپنی نشستوں کے اردگرد موجود کچرا جمع کیا۔ انہوں نے پلاسٹک بیگز استعمال کیے اور ہر جگہ کو صاف کیا تاکہ اسٹیڈیم ویسا ہی رہے جیسا وہ اسے ملا تھا۔
ایک 20 سالہ جاپانی شائق نے بتایا کہ یہ عادت انہیں بچپن سے اسکول میں سکھائی جاتی ہے۔ جاپان میں بچوں کو ابتدا ہی سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنی کلاس، اسکول اور مشترکہ جگہوں کو خود صاف کریں، جس سے صفائی اور ذمہ داری ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق انہیں ہمیشہ یہی سکھایا جاتا ہے کہ “جب آپ کسی جگہ کا استعمال کریں تو اسے بہتر حالت میں چھوڑیں”۔
ایک اور مداح نے اس عمل کو صرف صفائی نہیں بلکہ ایک روحانی اور اخلاقی رویہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاپانی معاشرے میں دوسروں کا خیال رکھنا، کسی کو تکلیف نہ دینا اور اجتماعی نظم کا خیال رکھنا بہت اہم ہے، اسی لیے وہ جہاں بھی جاتے ہیں صفائی کو ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرینِ سماجیات کے مطابق جاپانی رویے کی جڑ ان کی سماجی تربیت میں ہے، جہاں فرد سے زیادہ اجتماعیت کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق جاپانی لوگ خاص طور پر اپنے قریبی ماحول اور ساتھ موجود افراد کے جذبات کا خیال رکھتے ہیں، جسے وہ “چھوٹے پیمانے کی اخلاقیات” کہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جاپان میں عوامی جگہوں پر کوڑا دان کم ہونے کی وجہ سے شہری اپنا کچرا خود ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں روزانہ طلبہ خود صفائی کرتے ہیں، جس سے یہ عادت ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ جاپانی معاشرے میں reading the air نامی تصور بہت مضبوط ہے، جس کا مطلب ہے ماحول اور لوگوں کے رویے کو دیکھ کر فوراً اس کے مطابق عمل کرنا۔ اسی وجہ سے اگر ایک شخص صفائی شروع کرے تو باقی لوگ بھی خود بخود شامل ہو جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ کے بعد امریکی فٹبال کھلاڑی جیمس ونسٹن بھی جاپانی مداحوں کے ساتھ صفائی کرتے دکھائی دیے، جس نے اس روایت کو مزید عالمی توجہ دلائی۔
ماہرین کے مطابق اصل وجہ خواہ ثقافتی تربیت ہو یا سماجی دباؤ، جاپانی شائقین کا یہ عمل دنیا بھر میں ایک مثبت مثال بن چکا ہے اور ہر بڑے ایونٹ میں ان کی یہی پہچان برقرار رہنے کی توقع ہے۔
