ترکش ڈاکٹرز پانچ سالہ شامی بچی کے ہیرو

شام میں جاری جنگ کے دوران بمباری سے پانچ سالہ ہین عمادین د یمو جن کا چہرہ اور جسم مکمل طور پر جھلس گیا تھا جس کے بعد دو سالوں سے ہین اکدینز یونیورسٹی اسپتال میں زیر علاج ہے۔

 چہرے کی بہت ساری سرجریوں کے بعد بھی اسے معمول کی زندگی گزارنے کے لئے سات سے آٹھ مزید آپریشن سے گزرنا پڑے گا۔

ہین کی والدہ ، فاطمہ منصور دیمو ، جو تین بچوں کی والدہ ہیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ، چار سال قبل حلب میں بشار اسد حکومت کے بمباری کے بعد ان کے گھر پر بم گرا تھا۔

 انہوں نے بتایا کہ ان کا مکان تباہ اور اس کے بچے زخمی ہوگئے تھے۔ اس نے حملوں میں اپنے بہت سے رشتہ داروں کو بھی کھو دیا۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اپنی بیٹی ہین کے ساتھ ، اس کا کنبہ شمالی شام کے الباب صوبہ چلا گیا ، جس کے خیال میں وہ حلب سے زیادہ محفوظ ہیں۔

والدہ کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ ہین کا علاج ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے چہرہ سے اسکی شناخت کرنا نا ممکن ہوگیا تھا۔

 تاہم ، استنبول سے تعلق رکھنے والے مخیر حضرات کی مدد سے ، یہ کنبہ انتالیا آیا اور ہین کا علاج دو سال قبل ترکی کی اکڈنیز یونیورسٹی کے پروفیسر عمر ازکان نے شروع کیا تھا۔

علاج کے عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے  آزکان کا کہنا تھا  کہ وہ دو سال سے ہین کا علاج کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک آپریشن جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب تک کہ وہ تسلی بخش نتیجہ حاصل نہ کر لیں۔

Read Previous

استنبول ماڈرن میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والےافراد کے لیے داخلہ مفت

Read Next

ہمارا سر الله کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکے گا: ایردوان

Leave a Reply