ترک سفیر مصطفی یردکل کا ترکی اردو کو خصوصی انٹر ویو

پاکستان بابرکت سرزمین ہے، یہ انسانی تہذیب کا گہوارہ ہے، ترک سفیر

پاکستان میں ترکی کے سفیر احسان مصطفیٰ یرداکل نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین بہت بابرکت ہے۔ یہ انسانی تہذیبوں کا گہوارہ ہے۔ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں۔ یہاں آنے سے پہلے کرکٹ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا لیکن آج پشاور زلمی میری ٹیم ہے۔
ترکی اردو کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ یہ دو الگ ملک لیکن ایک قوم ہے۔ خلافت عثمانیہ کو بچانے اور ترکی کی آزادی کی جنگ میں برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں کو آج بھی ترک نوجوان نسل قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

سب سے پہلے آپ کی میزبانی کرکے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ خوش آمدید، ترکی اردو کی کامیابیوں کے لیے پُر امید ہوں۔ بات شروع کرنے سے پہلے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آج 16 دسمبر ہے۔ اس دن پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے حادثے پر تعزیت پیش کرتا ہوں۔  152 شہید بچوں کی شہادت پر اللہ سے رحمت کی امید کرتا ہوں۔ اللہ سے دعاگو ہوں کہ ایسا حادثہ دوبارہ رونما نہ ہو۔ اللہ پاک پاکستان، ترکی اور دنیا بھر سے دہشت گردی کو ختم کر دے۔  جیسا کہ آپ نے سوال کیا 3 سال سے پاکستان میں ترک سفارتخانے میں خدمات انجام دے رہا ہوں۔ یہاں کام کرنا میرے لئے خوشی کا باعث ہے کیونکہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ یہ دوستی معمول کے تعلقات سے بہت آگے کی چیز ہے۔ میں اس کا تذکرہ ہر ملنے والے شخص سے کرتا ہوں۔ پاکستانیوں کی ترکوں سے محبت اور احترام انتہائی خوشی کی بات ہے۔ اس لئے براہ مزاح دوستوں سے بات کرتے ہوئے بتاتا ہوں کہ پاکستان سے باہر ذمہ داریاں ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ پاکستان ثقافتی  اور جغرافیائی لحاظ سے بہت مختلف ملک ہے۔ پاکستان میں سیاحت کے کافی مواقع ملے شمال سے جنو ب بڑے بڑے شہروں کی سیر  کی پاکستان کے ہر شہر میں خاص خوبصورتی ہے۔ ہر جگہ اپنے لحاظ سے خاص خوبصورتی کی حامل تھی۔ پاکستان ایک بہت ہی بابرکت زمین ہے۔ پاکستان کے لوگ وسعت قلب رکھتے ہیں۔ پاکستان کی ثقافت اور اقدار بہت اچھی ہیں۔ یہاں لوگ خلوص دل سے ملتے ہیں۔ پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا گہوارا ہے۔ اس کے نشانات ہم ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں۔ شہروں کے درمیان ترجیح دینا بہت مشکل ہے۔ لیکن مجھے شمالی علاقے خاص طور پر پشاور بہت پسند ہے۔ پشاور کے کھانے انتہائی لذیز ہیں اور میں جب بھی پشاور جاتا ہوں۔ بھوک سے زیادہ کھانا کھاتا ہوں اور اپنے میزبانوں سے اکثر کہتا ہوں۔ یہ میرے لئے مسئلہ پیدا نہیں کرے گا پشاور زلمی میری ٹیم ہے۔

میں ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں پاکستان آنے سے پہلے۔ یعنی تین سال پہلے تک مجھے کرکٹ کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ ترکی میں ابھی بھی کرکٹ جانے پہچانے کھیلوں میں نہیں ہے۔ میں جب یہاں آیا تو دیکھا کہ یہاں کرکٹ کا ایک جنون ہے۔ لوگوں کو دیکھ کر مجھے کرکٹ سے دلچسپی شروع ہوئی۔ پاکستان میں کرکٹ کو دیکھ کر اس کھیل کی طرف توجہ بڑھی۔ دوستوں کا شکریہ جن کی وجہ سے مجھ میں کرکٹ کا شوق پیدا ہوا ان میں ایک دوست پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی بھی ہیں۔ ترک سفارتخانے میں کرکٹ کی ایک تعارفی تقریب کا انعقاد بھی کیا۔ پشاور زلمی کے ساتھ ہمارے تین نوجوان بھی شامل ہوئے۔ کرکٹ کے ڈائنامک کو سمجھنے میں پشاور زلمی نے کردار ادا کیا۔ کرکٹ ابھی ترکی کے مستقل اسپورٹس فیڈریشن میں شامل نہیں ہے۔ ایمیرجنگ اسپورٹس فیڈریشن یعنی ترق پذیر کھیلوں کی ترک فیڈریشن ہے۔ اس میں دیگر کھیلوں کے ساتھ کرکٹ بھی شامل ہے۔ ترکی میں افغانی اور پاکستانی لوگ کرکٹ کھیلتے ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی ترکی کی  گلیوں میں کرکٹ کھیلی جا رہی ہے۔ ترک قوم کرکٹ کو نیا نیا جاننا شروع ہوئی ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ترکی کی خواتین کرکٹ ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت کرے گی۔ کورونا کی وجہ سے میچوں کے شیڈول طے نہیں ہو پا رہے ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار ترک خواتین کرکٹ میں سرگرم نظر آ رہی ہیں۔ ہم اس کھیل میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں گے۔ کوشش ہے کہ کرکٹ ترکی اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا ایک ذریعہ بنے۔

یہاں آنے سے پہلے ارطغرل ترکی میں دیکھا جا رہا تھا۔ ترکی میں یہ ڈرامہ سیریل بہت مشہور ہو گئی تھی۔ اس کے بعد کافی ملکوں میں یہ ڈرامہ دیکھا جانے لگا۔ پاکستان میں یہ ڈرامہ انٹرنیٹ پر دیکھا جا رہا تھا لیکن یہ اردو سب ٹائٹل کے ساتھ تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کی کوششوں سے اسے اردو میں ڈب کیا گیا۔ ہم نے بھی اس ڈرامے کی ڈبنگ میں اپنا کام تیز کیا۔ ٹی آر ٹی اور پی ٹی وی کے درمیان معاہدے طے پایا۔ جس کے بعد ارطغرل اردو آواز کے ساتھ دیکھا جانے لگا۔ مجھے امید تھی کہ ارطغرل پاکستانیوں کی توجہ حاصل کر لے گا لیکن یہ ڈرامہ اس قدر مقبول ہو جائے گا اس کی توقع نہ تھی۔ یہ ایک خوشگوار اور حیران کن سرپرائز تھا میرے لئے خاص طور پر  یو ٹیوب پر اس کے سبسکرائبرز کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اس سے پہلے کسی ملک میں نہیں دیکھی گئی ایک قسط لاکھوں لوگ ایک ہی وقت میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ بات بہت خوش آئند ہے کیونکہ پاکستان کے ہمارے بھائی اور دوسرے لوگ جان سکیں کہ ترک قوم کی تاریخ کیا ہے۔ اس ڈرامے نے ترک ثقافت اور اقدار کو اجاگر کیا۔  کبھی کبھار بطور مزاح پاکستانی دوستوں کو بھی کہتا ہوں اور انہیں اچھا بھی لگتا ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ارطغرل ڈرامہ رمضان کی پہلی تاریخ کو شروع ہوا تھا ان دنوں کورونا کی وجہ سے لوگ گھروں میں بند تھے ان دنوں کورونا کی وجہ سے لوگ گھروں میں بند تھے ارطغرل کا ٹی وی پر دکھایا جانا پاکستانی لوگوں کو گھروں میں رہنے اور ملک میں کورونا پر قابو پانے اور دوسرے ممالک  کی نسبت پاکستان کے کورونا کے کم پھیلنے میں مددگار ثابت ہوا یہ مذاق دوستوں سے کرتا ہوں اور انہیں اچھا لگتا ہے۔

دوسرا سوال کہ ترکی اس کے ڈرامے کے کیا مقاصد ہیں؟ سب سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ترکی امریکہ کے بعد ڈرامے پر اخراجات میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ترکی ڈراموں کے نہ صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا میں بلکہ دیگر کئی ممالک میں بہت بڑی تعداد میں دیکھنے والے پائے جاتے ہیں۔ یہ بہت زیادہ پسند کیا جانے والا سیکٹر ہے یعنی ترکی ڈرامہ سیکٹر ہم اس سے بہت خوش ہیں اس میں ایک طرف ترکی کا تعارف اور دوسری طرف ترکی کی فلم انڈسٹری کی ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔ ارطغرل پر پیچیدہ نظریئے کی چھاپ لگانا درست نہیں ہے ہماری پروڈکٹ سب کے سامنے ہے جسے پسند ہے وہ دیکھے جسے پسند نہیں وہ دوسری چیزوں کو ترجیح دے۔ یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہالی ووڈ یا دوسرے ممالک کی فلم انڈسٹری درست تاریخ نہ دکھانے اور مختلف ممالک کی ثقافت اور روایات کو مسخ کر کے دکھاتا ہے اس سے تاریخ سے نابلد لوگوں کو اصل روایات کا پتہ نہیں چلتا۔ ترک ڈرامے نے تاریخ، روایات اور ثقافت کا اصل چہرہ سب کو دکھایا اس سے پوری دنیا میں ترک روایات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ میں اسے تشہیر کے اچھے یا برے نہ ہونے کی حیثیت سے دیکھتا ہوں ہم ترک قوم جغرافیائی، تاریخی اور ثقافت کے حامل لوگ ہیں ترک روایات کو اجاگر کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ ترک قوم کی صحیح تاریخ روایات اور اقدار جاننے کے لئے ترک ڈرامے دیکھیں۔

ترکی جیسا کہ آپ نے کہا کہ خاص طور پر ہیلتھ ٹورازم اور دوسرے سیاحتی شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ حکومت نے ترک ثقافت اور روایات کو سیاحت کا حصہ بنایا ہے اس میں مختلف محرکات ہیں:  پہلا محرک عثمانی سلطنت کے آخری دور اور موجودہ جمہوری دور میں ایک ترقی یافتہ انسانی بنیاد تھی۔ جیسے ڈاکٹرز، انجینئرز، معمار اور صنعت کار تھے انہیں زیادہ متحرک کرنا ضروری تھا۔ ہماری حکومت کے آخری دور میں کرنسی کو بہتر کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات میں سیاحت ایک اہم شعبہ تھا جس سے ملک میں کرنسی آنا شروع ہوئی۔ جیسا کہ آپ نے کہا یورپ کے سب سے بہترین اسپتال ترکی میں ہیں آپ ترکی میں ہوں اور کسی بھی مرض کا علاج یا کوئی چھوٹا بڑا آپریشن نہ ہو سکے ایسا ممکن نہیں ہے۔ حکومت کی ہیلتھ ٹورازم پالیسی کے اثرات آج سامنے آ رہے ہیں۔ دنیا کے ہر کونے سے خلیجی  ممالک سے لے کر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اور پاکستان سمیت یورپ سے لوگ علاج کے لئے ترکی آ رہے ہیں۔ یہ ہیلتھ ٹورازم ہی ہے اللہ کا شکر ہے کہ لوگ ترکی میں علاج سے مطمئن اور خوش ہیں۔ حکومت اس شعبے کو مزید وسعت دینا چاہتی ہے۔  ترکی دنیا میں ہیلتھ ٹورازم میں اپنی ایک جگہ بنا رہا ہے۔ پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو جگر کی تبدیلی یا کسی دوسری بڑی بیماری کا علاج کسی مغربی ملک میں کروانا انتہائی مہنگا ہے۔ ترکی میں یہ سب کام سستے داموں اور معیاری ہو رہے ہیں۔ پاکستانیوں کو ترکی کی ہیلتھ ٹورازم سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

Read Previous

ترک جوڑا 6 سال سے سمندر میں رہائش پذیر

Read Next

ترکی کو F-35 طیارے نہ ملے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، ترک وزیر دفاع

Leave a Reply