fbpx

ترکی اردو ویب سائٹ کا باقاعدہ آغاز ، تقریب میں ترک سفیر احسان مصطفیٰ یردکل اور وفاقی وزیر شہریار آفریدی کی شرکت

ترک سفیر احسان مصطفےٰ یرداکل نے کہا ہے کہ ترکی اور پاکستان میں بہت سے میڈیا ہاوسز کام کر رہے ہیں ۔ ٹی آر ٹی ایک پیشہ وارانہ خبروں کا ادارہ ہے ۔ اس کے علاوہ اینادولو ایجنسی بہترین کام کر رہی ہے اور جو کچھ کمی رہ گئی تھی وہ ترکی اردو نے پوری کر دی ہے ۔

وہ اسلام آباد میں ترکی اردو کے زیر اہتمام پاک ترک تعلقات میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو یہ دیکھنا ہے کہ کون سے مشترکہ بیانیہ میڈیا میں لایا جائے کیونکہ دونوں ملکوں میں پروفیشنل میڈیا کی کمی نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ترکوں کو اردو اور پاکستانیوں کو ترکی ضرور سیکھنی چاہئے لیکن ہمارے تعلقات زبان سے کہیں زیادہ بالاتر ہے ۔ اور میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ترکوں کے جسم میں پاکستان اور پاکستانیوں کے جسم میں ترکوں کا دل دھڑکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علم دونوں ملکوں کا سرمایہ ہیں ۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تاجر برادری میں رابطوں کی کمی ہے انہوں نے پاکستانی تاجروں سے کہا کہ وہ مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے ٹھوس تجاویز اور منصوبہ بندی لے کر میرے پاس آئیں تو پھر ہم ترک سرمایہ کاروں کے ساتھ ان کی مشترکہ ملاقات کا اہتمام کریں گے ۔

انہوں نے عبدالرحمٰن پشاوری کی زندگی پر بننے والے ترک لالہ ٹی وی ڈرامہ سیریل پر کہا کہ آپ مجھے دوسرا ترک لالہ سمجھ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں ترکی کا سفیر نہیں بلکہ میں ترکی میں پاکستان کا سفیر ہوں ۔ وفاقی وزیر امور کشمیر شہریار خان آفریدی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ترکی اردو کا شکریہ ادا کیا کہ ترکی اردو نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک نئی جہت دی ہے ۔ شہر یار آفریدی نے دونوں ملکوں کے مشترکہ میڈیا ہاوس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بڑے ممالک اپنے میڈیا ہاوسز کے ذریعے اپنا ایجنڈا ، اپنی ثقافت اور اپنی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں ۔ امریکا نے جنگ عظیم دوئم کے بعد سوفٹ فیس کو سامنے لاتے ہوئے کئی ملکوں میں اپنی ثقافت کو فروغ دیا لیکن دوسری طرف ویت نام ، عراق اور افغانستان میں امریکا نے بھیانک کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم خلافت عثمانیہ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنا کلچر اور تہذیب کی سمجھ آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے کلچر کی وجہ سے دوسرے ملکوں میں ثقافتی یلغار کر رہا ہے اور کشمیر میں ظلم و ستم و بربریت کی بدترین مثال قائم کر رہا ہے لیکن اپنی ثقافتی یلغار کے ذریعے دنیا سے اپنا مکروہ چہرہ چھپا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے صدر ایردوان سے ملاقات میں مشترکہ میڈیا ہاوس قائم کرنے پر بات کی تھی اب پاکستان اور ترکی کو کلچرل فرنٹ پر آ کر کھیلنا ہو گا ۔ بڑے بڑے ممالک نے اپنے کلچر کے ذریعے اپنے ایجنڈے کو دنیا کے سامنے منوایا ہے ۔ ہمارے سامنے حالیہ مثال ارطغرل غازی کی ہے جس نے دنیا میں شہرت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے میں ایران بھی پاکستان سے بہت زیادہ ایڈوانس ہے جبکہ پاکستان اب بھی اس شعبے میں کافی پیچھے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آرٹ اینڈ کلچر کے ذریعے تبدیلی لائیں گے اور دنیا کی ثقافتی یلغار کا مقابلہ کریں گے ۔ شہر یار آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو ہر میدان میں دھول چٹائی ہے اور اب ہم پرفارمنگ آرٹ کے ذریعے اس کی ثقافتی یلغار کا راستہ روک کر اسے اس محاذ پر بھی شکست دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح بھارت کشمیر میں ظلم کر رہا ہے ۔ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور میں یہ بات بھارت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ بھارت کو اپنے ہر ظلم کا حساب دینا ہو گا ۔ سینٹر طلحہ محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی سے پاکستانیوں کی محبت ان کے خون میں شامل ہے ۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک سرگرم اور متحرک میڈیا ہاوس کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کے بڑے ذرائع ابلاغ کا مقابلہ کرنے کے لیے ترکی اور پاکستان کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلیم کے شعبے میں خصوصی طور پر تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان کا پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب ہمارے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ترک شہروں اور کشمیر کو مشترکہ شہر قرار دیا ۔ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت سب کے سامنے ہے لیکن ایردوان نے اس پر مضبوط آواز بلند کی ۔ انہوں نے ترکی اردو کا شکریہ ادا کیا کہ ترکی اردو دنیا بھر میں اردو بولنے والی کمیونٹی میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے ۔
ترکی اردو کے ایگزیکٹو ایڈیٹر محمد حسان نے اپنے خطاب میں کہا کہ
ترکی اردو صرف خبروں کی اشاعت کا ہی پلیٹ فارم نہیں ہوگا ۔۔ بلکہ ہم ترکی اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا بیش بہا فروغ چاہتے ہیں ۔ ہم تعلیم صحت اور کاروبار کے باہمی اشتراک سے دونوں برادر ممالک میں ترقی و خوشحالی امن اور محبت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ۔۔ اور یہی خواہش ہماری تمام مسلم ممالک بارے ہیں ۔ ۔ہمارے دل اور جذبات باہمی محبت میں جڑے ہے ہم” الگ قومیں مگر ایک ملت ” کے سلوگن پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہم ترکی پاکستان آزربائیجان سمیت تمام مسلم ممالک میں علم اور بزنس کے اشتراک سے مضبوط اور خوشحال ملت کے سفر پر گامزن ہیں
آج کے اس سیمینار سے اسی بلند مقصد کے سفر کی نئے انداز سے شروعات ہو رہی ہیں ۔۔
تقریب سے دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل نعیم لودھی ، انصاری فلمز کے ڈائریکٹر ثاقب انصاری ، الخدمت کے مرکزی صدر عبدالشکور ، رفیع اللہ ، سکائی نیوز کے سی ای او سید مصطفےٰ حسین سمیت دیگر نے بھی اظہار خیال کیا ۔ اس موقع پر صحت ، سیاحت اور تعلیم سمیت دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی

ozIstanbul

پچھلا پڑھیں

مصری عدالت کا اخوان المسلمین کے 89 رہنماوٗں کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم

اگلا پڑھیں

ترکی اردو نے پاک ترک تعلقات کو ایک نئی جہت دے دی، ترک سفیر

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے