آذربائیجان کے مطالبے پر ترک فوج بھیجنے پر کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہو گی، ترک نائب صدر

ترک نائب صدر فواد اوکتے نے کہا ہے کہ آذربائیجان اور ترکی کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ ہے اور اگر باکو فوجی تعاون کے معاہدے کے تحت ترکی سے فوج بھیجنے کی درخواست کرتا ہے تو ترکی کو فوج بھیجنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

سی این این ترک کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے فواد اوکتے نے کہا کہ اپنی جغرافیائی حدود کا دفاع آذربائیجان کا حق ہے۔ آرمینیا مسلسل جارحیت کر رہا ہے اور مقبوضہ کاراباخ سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آذربائیجان اب تک 100 مقبوضہ دیہات آزاد کروانے میں کامیاب ہو گیا ہے تاہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق نیگورنو کاراباخ آذربائیجان کا حصہ ہے اور آرمینیا کو ہر صورت یہاں سے قبضہ چھوڑنا ہو گا۔

فواد اوکتے نے کہا کہ آرمینیا ایک دہشت گرد ریاست ہے جو جنگ بندی معاہدے کے باوجود معصوم شہریوں پر حملے کر رہا ہے۔ آذربائیجان نے اس جنگ میں آرمینیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرمینیا کے لئے اس جنگ کو طول دینا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کی معیشت پہلے ہی بحران کا شکار ہے۔ آرمینیا کے پاس واپسی کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے خالی کرے اور آذربائیجان کو اس کے علاقے واپس کرے۔

فواد اوکتے نے کہا کہ آرمینیا نے شام سے کُرد دہشت گرد تنظیم (پی کے کے) کے دہشت گرد بلائے ہیں اور ترکی کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی تنازعے میں مداخلت کے حوالے سے فواد اوکتے نے کہا کہ میکرون یورپین یونین میں اپنے آپ کو ایک رہنما کے طور پر منوانا چاہتے ہیں لیکن دنیا بھر میں کوئی انہیں سنجیدہ نہیں لیتا اور نہ ہی انکی باتوں پر دھیان دیتا ہے۔

ترک نائب صدر نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی اپنے حصے کا ایک قطرہ بھی یونان یا کسی دوسرے کو نہیں دے گا۔

Read Previous

سعودی عرب میں ترک مصنوعات پر غیر اعلانیہ سرکاری پابندی سے ایکسپورٹرز پریشان

Read Next

استنبول میں داعش کے خلاف کریک ڈاوٗن، متعدد مشتبہ دہشت گرد گرفتار

Leave a Reply