fbpx

سعودی عرب میں ترک مصنوعات پر غیر اعلانیہ سرکاری پابندی سے ایکسپورٹرز پریشان

ترکی اور سعودی عرب میں سیاسی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ سعودی عرب میں ترکی کی مصنوعات پر غیر اعلانیہ سرکاری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سعودی عرب کے تمام بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز اور خریداری کے مراکز پر واضح الفاظ میں ترک مصنوعات کی خریداری نہ کرنے کے بینرز لگا دیئے گئے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی نے تردید کی ہے کہ سرکاری سطح پر اس طرح کی کسی پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں ترک مصنوعات کے بائیکاٹ سے ایکسپورٹرز پریشان ہیں۔ ترکش ایکسپورٹرز اسمبلی کے چیئرمین اسماعیل گل نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے سیاست میں تجارت ایک آلے کے طور پر استعمال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سیاست تجارت کو فروغ دینے کے لئے استعمال کی جائے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں اور معیشت فروغ پائے۔

پچھلے کئی دنوں سے سعودی عرب کے مختلف بازاروں سے تصاویر اور ویڈیوز آئی ہیں جس میں ترک مصنوعات، سرمایہ کاری اور سیاحت کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ تجارت کے بین الاقوامی معاہدوں اور آزادانہ تجارت کے اصولوں پر عمل کر رہی ہے اور ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کا سرکاری سطح پر اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری طرف دارالحکومت ریاض کے کئی بازاروں اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز سے تصاویر اور ویڈیوز آئی ہیں جس میں ان اسٹورز میں ترک مصنوعات کے بائیکاٹ کے بینرز لگے ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کے سوشل میڈیا پر بائیکاٹ ترکش پروڈکٹس اور ترکش پروڈکٹس بائیکاٹ کے ہیش ٹیگ وائرل ہو رہے ہیں۔

اسماعیل گل نے کہا کہ گذشتہ سال ترکی نے سعودی عرب کو ایک ارب 86 کروڑ ڈالر کا پتھر برآمد کیا تھا لیکن حالیہ بائیکاٹ مہم سے اس سال ترک ایکسپورٹرز کو اپنا مال بیچنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سعودی خریدار ترک تاجروں کو آرڈر نہیں دے رہے ہیں۔

ترکی اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات انقرہ میں سعودی سفارتخانے میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد حالات کشیدہ ہیں۔

پچھلا پڑھیں

فتح اللہ ٹیررسٹ آرگنائزیشن کے دہشت گردوں کے سروں کی قیمت کا اعلان

اگلا پڑھیں

آذربائیجان کے مطالبے پر ترک فوج بھیجنے پر کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہو گی، ترک نائب صدر

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے