نیٹو کے دیگر ممبرز کی طرح ترکی بھی میزائل ڈیفنس سسٹم استعمال کرے گا، وزیر دفاع

ترک وزیر دفاع ہلوسی آکار نے کہا ہے کہ ترکی کو روسی ساختہ S -400 ڈیفنس میزائل سسٹم استعمال کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نیٹو کے کئی ممبرز ممالک S -300  ڈیفنس میزائل سسٹم استعمال کر رہے ہیں تو پھر ترکی پر کیوں اعتراض کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ S-300  ڈیفنس میزائل سسٹم بھی روسی ساختہ ہے نیٹو کے کئی ممبرز ممالک اس سسٹم کو استعمال کر رہے ہیں۔ ترکی نے اس کی جدید قسم S-400   خریدی ہے پھر اعتراض کس بات کا؟

ترکی کی پارلیمانی پلاننگ اینڈ بجٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ہلوسی آکار نے کہا کہ روس نے S -300  ڈیفنس میزائل سسٹم دنیا کے 20 ممالک کو فروخت کیا ہے اس میں نیٹو کے تین ممالک بلغاریہ، یونان اور سلوویکیا بھی شامل ہیں۔ ترکی اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت S -400  ڈیفنس میزائل سسٹم پر عمل درآمد کرے گا۔

ہلوسی آکار نے کہا کہ ترکی امریکہ کے ساتھ جدید جنگی طیاروں F-35  اور روس کے ایئر ڈیفنس سسٹم کے آپس میں ربط پر تکینیکی بات چیت کے لئے تیار ہے۔

امریکہ نے جولائی 2019 میں ترکی پر F-35 جیٹ طیاروں کی مشترکہ تیاری پر پابندی عائد کر دی تھی۔ امریکہ کا موقف تھا کہ ترکی نے روس سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کیوں خریدا؟

ہلوسی آکار نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے الزام میں اب تک فوج سے 20،571 اہلکاروں کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فتح اللہ ٹیررسٹ آرگنائزیشن نے جولائی 2016 میں فوج کو بغاوت پر اکسایا جس پر کچھ ترک فوج کے کچھ سینئر اور جونئیر افسران نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی لیکن ترک عوام نے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اس بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ اس بغاوت میں 251 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

Read Previous

صدر ایردوان کی نئی اکنامک ٹیم کے آنے سے رسک پریمئم 1.35 فیصد کم ہو گیا

Read Next

امریکہ میں ترک ریسٹورنٹ پر حملہ کرنے والا آرمینیائی شخص گرفتار

Leave a Reply