انقرہ / ڈوبروونک: ترکیہ نے عالمی تجارت اور علاقائی سیاست میں اپنی اہمیت کو مزید مستحکم کرتے ہوئے معروف یورپی پلیٹ فارم ‘تھری سیز انیشی ایٹو’ (Three Seas Initiative – 3SI) میں باقاعدہ طور پر بطور ‘اسٹریٹجک پارٹنر’ شرکت کا آغاز کر دیا ہے۔
ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان کل 28 اپریل کو کروشیا کے تاریخی شہر ڈوبروونک میں منعقد ہونے والے اس انتہائی اہم اجلاس میں صدر رجب طیب ایردوان کی نمائندگی کریں گے۔
تاریخی شمولیت اور اجلاس کا ایجنڈا
یہ پہلا موقع ہے کہ ترکیہ اس بڑے یورپی پلیٹ فارم میں اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شامل ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ ترکیہ کی اس شمولیت کی باقاعدہ منظوری 2025 میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ہونے والے اجلاس کے دوران دی گئی تھی۔
اس سمٹ میں وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک شرکت کریں گے، جس کا بنیادی مقصد بالٹک (Baltic)، ایڈریاٹک (Adriatic) اور بحیرہ اسود (Black Sea) کے خطوں میں ٹرانسپورٹ، توانائی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا ہے۔
ترکیہ کا مؤقف: سپلائی چین اور کنیکٹیویٹی پر زور
توقع ہے کہ وزیرِ خارجہ حاقان فیدان اپنے خطاب میں عالمی سطح پر ‘کنیکٹیویٹی’ (رابطہ کاری) کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیں گے۔ ان کے ایجنڈے کے اہم نکات یہ ہوں گے:
- توانائی، ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور مالیاتی روابط کی مضبوطی۔
- عالمی تنازعات کے باعث سپلائی چین (Supply Chain) اور توانائی کے نظام میں پیدا ہونے والی حالیہ کمزوریوں کا تدارک اور مشترکہ حل۔
گیم چینجر منصوبے: مڈل کوریڈور اور ڈیولپمنٹ روڈ
اجلاس کے دوران ترکیہ کی جانب سے دو بڑے اور انقلابی تجارتی منصوبوں کو خاص طور پر اجاگر کیا جائے گا:
- مڈل کوریڈور (Middle Corridor): یہ منصوبہ چین کو قازقستان، بحیرہ کیسپین، آذربائیجان، جارجیا اور ترکیہ کے راستے براہِ راست یورپ سے جوڑتا ہے۔ اس سے ایشیا اور یورپ کے درمیان سامانِ تجارت کی ترسیل کا وقت کم ہو کر محض 15 دن رہ جاتا ہے۔ ترکیہ کا مرکزی کردار اسے 21 ممالک کو جوڑنے والی عالمی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی بناتا ہے۔
- ڈیولپمنٹ روڈ (Development Road): یہ منصوبہ عراق، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس کے تحت عراق کی ‘گرینڈ فاو بندرگاہ’ سے سامان ترکیہ کے راستے براہِ راست یورپ تک پہنچایا جائے گا، جو موجودہ عالمی تنازعات میں تجارتی حجم بڑھانے کا ایک محفوظ متبادل ہے۔
تھری سیز انیشی ایٹو کے اراکین اور شراکت دار
اس اہم علاقائی فورم میں درج ذیل ممالک شامل ہیں:
- رکن ممالک: آسٹریا، بلغاریہ، چیکیا، ایسٹونیا، کروشیا، لٹویا، لیتھوانیا، ہنگری، پولینڈ، رومانیہ، سلوواکیہ، سلووینیا اور یونان۔
- اسٹریٹجک پارٹنرز: ترکیہ، یورپی کمیشن، امریکا، جرمنی، جاپان اور اسپین۔
- شریک ممالک (Associate): یوکرین، مالدووا، البانیا اور مونٹی نیگرو۔
توانائی کے بحران میں ترکیہ کا نیا کردار
ترک وزیر برائے توانائی الپ ارسلان بیرقدار نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور بحران ترکیہ کے لیے نئے اور مثبت مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ صورتحال ترکیہ کو توانائی کی ترسیل کا سب سے بڑا علاقائی مرکز (Energy Hub) بننے میں مدد دے گی۔
خلاصہ: تھری سیز انیشی ایٹو میں ترکیہ کی یہ تاریخی شمولیت نہ صرف یورپی ممالک کے ساتھ علاقائی تعاون کو فروغ دے گی، بلکہ مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت اور توانائی کی فراہمی کے نئے اور محفوظ دروازے بھی کھولے گی۔
