واشنگٹن / نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک انتہائی متنازع پوسٹ نے امریکہ اور انڈیا کے درمیان سفارتی اور سیاسی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس پوسٹ میں امیگریشن، خاص طور پر انڈین اور چینی تارکینِ وطن سے متعلق انتہائی سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔
تنازع کا آغاز: "روئے زمین پر جہنم”
اس تنازع نے اس وقت طول پکڑا جب امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک طویل تحریر شیئر کی، جو دراصل مائیکل سیویج (Michael Savage) کے پوڈکاسٹ سے لی گئی تھی۔ اس پوسٹ میں:
- امریکہ میں امیگریشن اور شہریت کے قوانین پر کڑی تنقید کی گئی۔
- انڈیا اور چین کو غیر معمولی اور سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان ممالک کو "زمین پر جہنم” (Hell on Earth) جیسے الفاظ سے بیان کیا گیا۔
- غیر ملکی تارکینِ وطن، خاص طور پر انڈین اور چینی کمیونٹیز کو امریکی معیشت اور معاشرے کے لیے بوجھ کے طور پر پیش کیا گیا۔
بھارتی حکومت اور اپوزیشن کا شدید ردعمل

1. بھارتی وزارتِ خارجہ کا مؤقف
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت نے اس حوالے سے رپورٹس دیکھی ہیں اور امریکی سفارتخانے کے بیانات کو بھی نوٹس میں لیا ہے۔ ترجمان نے امریکی صدر کی جانب سے شیئر کی گئی اس تحریر کو کڑے الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے کہا:
"یہ تبصرے مکمل طور پر لاعلمی پر مبنی، نامناسب اور سفارتی آداب کے خلاف ہیں۔”
2. اپوزیشن جماعت ‘کانگریس’ کی تنقید
انڈیا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ‘انڈین نیشنل کانگریس’ نے بھی اس بیان پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
- کانگریس رہنماؤں نے ٹرمپ کے بیان کو انڈین عوام کے لیے براہِ راست ‘توہین آمیز’ قرار دیا۔
- اپوزیشن نے مودی حکومت کی مبینہ خاموشی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے دنیا بھر میں موجود انڈین شہریوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں اور حکومت کو اس پر مزید سخت مؤقف اپنانا چاہیے۔
اصل تنازع کیا ہے؟ ‘پیدائش پر شہریت’ کا قانون
ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی اس پوسٹ کا اصل ہدف امریکہ کا ‘پیدائش پر شہریت’ (Birthright Citizenship) کا قانون تھا۔
امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کا پس منظر:
- قانون کیا ہے؟ 1868 میں منظور کی گئی امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے مطابق، ملک کی حدود میں پیدا ہونے والے ‘تمام افراد’ پیدائشی طور پر امریکی شہری تصور کیے جائیں گے۔
- سپریم کورٹ کا فیصلہ: سنہ 1898 میں امریکی سپریم کورٹ نے یہ اصول طے کر دیا تھا کہ اس قانون کا اطلاق پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے بچوں پر بھی یکساں ہوگا۔
- اس ترمیم سے قبل سپریم کورٹ کے کچھ فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں موجود افریقی نژاد افراد کبھی امریکی شہری نہیں بن سکتے، تاہم 14ویں ترمیم نے ان تمام نسلی فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
ٹرمپ کا مؤقف: ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی متعدد بار اس قانون پر کھلی تنقید کر چکے ہیں اور امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرتے ہوئے اس قانون کو تبدیل یا ختم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔
