عالمی ڈیسک: خشک اور بنجر خلیجِ فارس کو دنیا کا "غلہ اگانے والا خطہ” (Breadbasket) تو نہیں سمجھا جاتا، لیکن اس خطے میں جاری حالیہ تنازعہ اور ایران امریکہ جنگ عالمی فوڈ انڈسٹری میں ایسے بڑے جھٹکے پیدا کر رہی ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی کھانے کی میز تک پہنچ رہے ہیں۔
ایران جنگ نے عالمی فوڈ سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ خلیجِ فارس میں جاری شدید کشیدگی کے باعث کھاد، ایندھن اور خوراک کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی اور ایک سنگین خوراک کے بحران کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
1. کھاد کے بحران سے زرعی پیداوار خطرے میں
خلیجی خطہ دنیا بھر میں نائٹروجن کھاد کی پیداوار اور ترسیل کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ جنگ کی وجہ سے اس کی عالمی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

- بلومبرگ (Bloomberg) کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 سے 2025 کے دوران عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور ایران نے مل کر تقریباً 50 ارب ڈالر مالیت کی نائٹروجن کھادیں برآمد کی ہیں۔
- جنگ کی وجہ سے نہ صرف برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے، بلکہ قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے نے بھی کھاد کی صنعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
- کسانوں کو کھاد مہنگے داموں خریدنا پڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں فصلوں کی لاگت بڑھ رہی ہے اور مجموعی پیداوار کم ہونے کا واضح خدشہ ہے۔
2. توانائی کا بحران اور جدید زراعت کا انحصار
دورِ جدید میں خوراک کی پیداوار مکمل طور پر توانائی اور ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔ ٹریکٹر، زرعی مشینیں، گرین ہاؤسز، اور ٹرانسپورٹ سب تیل اور گیس پر چلتے ہیں۔ جنگ نے ایندھن کی سپلائی کو سست اور مہنگا کر دیا ہے، جس سے زرعی مشینری کا چلنا مشکل ہو گیا ہے اور خوراک کی ترسیل کی لاگت بڑھ گئی ہے۔
3. مختلف ممالک پر تباہ کن اثرات
اس بحران کے اثرات پوری دنیا کے کسانوں اور صارفین پر مختلف انداز میں پڑ رہے ہیں:
- ایشیا: کھاد اور ایندھن دونوں کے مہنگا ہونے کی وجہ سے کئی کسان چاول کی کاشت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
- آسٹریلیا: اناج اگانے والے کسانوں کو ایندھن کی ترسیل میں شدید کمی کا سامنا ہے۔
- برطانیہ، یورپ اور امریکہ: ان ممالک میں خوراک کی قیمتوں اور مہنگائی میں ہوشربا اضافہ متوقع ہے۔ برطانیہ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ سال کے آخر تک مہنگائی 9 سے 10 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
- کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی: برطانیہ میں CO2 کی کمی کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے، جو خوراک کی پیکجنگ، مشروبات اور گوشت کی صنعت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
4. غریب ممالک میں قحط کا سنگین خطرہ
ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وہ ترقی پذیر ممالک جو خوراک اور کھاد درآمد کرتے ہیں، اس جنگ کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔


اقوامِ متحدہ (UN) نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ اسی طرح جاری رہی تو دنیا بھر میں مزید 4 کروڑ 50 لاکھ لوگ شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے قحط زدہ افراد کی مجموعی تعداد تاریخی سطح تک پہنچ جائے گی۔ تنازعے کے باعث عالمی خوراکی امداد بھی رک گئی ہے، جس نے متاثرہ علاقوں میں قحط کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ: مجموعی طور پر ایران امریکہ جنگ نے عالمی فوڈ سپلائی چین کو انتہائی غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر کوئی سفارتی حل نہ نکالا گیا، تو اس بحران کے مزید تباہ کن اثرات آنے والے چند مہینوں میں ہر عام آدمی کی زندگی پر دستک دیں گے۔
Picture credit: Bloomberg
