ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے یوکرین کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور آزادی کے لیے حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے یوکرین کو ترکیہ کا تزویراتی شراکت دار قرار دیا ہے۔ استنبول میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ یوکرین میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ترکیہ کی میزبانی میں روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے ثابت کیا کہ سفارت کاری سے ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ملاقات میں بحیرہ اسود کی سلامتی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر بھی گفتگو ہوئی۔ صدر ایردوان نے کہا کہ شہری جہازوں پر حملے اور بحیرہ اسود میں کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں۔ ترکیہ اس معاملے پر متعلقہ فریقوں سے رابطے جاری رکھے گا۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ دونوں ملک بحیرہ اسود میں اناج کی راہداری فعال رکھنے اور محفوظ بحری ترسیل یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس کا مقصد یوکرین کی زرعی برآمدات اور عالمی غذائی رسد کے لیے بحری راستہ محفوظ بنانا ہے۔
اقتصادی تعلقات میں اہم پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کا نفاذ ہے۔ 2022 میں طے پانے والا یہ معاہدہ یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہو چکا ہے۔ صدر ایردوان نے اسے دوطرفہ اقتصادی تعلقات میں اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے 10 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ اشیا کی تجارت پر کسٹم ڈیوٹی میں طے شدہ رعایتوں کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔
صدر ایردوان نے کہا کہ جنگ کے باوجود یوکرین میں کاروبار جاری رکھنے والی ترک کمپنیاں ملک کی تعمیرِ نو میں اہم کردار ادا کریں گی۔ زیلنسکی نے بھی ترکیہ کی توانائی کمپنیوں سے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یوکرین کو جنریٹرز اور دیگر توانائی آلات کی فراہمی میں اضافے کی توقع ہے۔
ملاقات میں یوکرین، امریکہ اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔ زیلنسکی کے مطابق یوکرین نومبر کے پہلے نصف میں ایسے مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ ان کے ترکیہ میں انعقاد کے امکان پر بھی بات ہوئی۔
