ترکی دنیا کی مظلوم عوام کی آواز ہے، ترک عوام کسی صورت انصاف پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، صدر طیب ایردوان

ترکی میں نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر طیب ایردوان نے کہا ہے کہ نیا عدالتی سال نہ صرف ترک عوام بلکہ عدلیہ کے لئے بھی انتہائی اہم ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ نئے عدالتی سال میں عدالت کے معزز جج، پبلک پراسیکیوٹرز اور وکلا مل کر انصاف کا بول بالا کریں گے۔
حکومت اور عدلیہ کی کوشش ہے کہ معاشرے سے جرائم کا خاتمہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں سب سے بھاری ذمہ داری عدلیہ اور پولیس پر عائد ہوتی ہے۔
صدر طیب ایردوان نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں انصاف کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قومیں اور معاشرے صنعت، کاروبار اور معیشت سے ترقی نہیں کرتے۔ ترقی کے لئے بنیادی جزو عدالتوں کا انصاف ہے۔ جب معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہوتا ہے تو پھر ہم شعبہ ٹھیک کام کرتا ہے اور قومیں خوشحالی کی منزلیں طے کرتی ہیں۔
قرآن پاک میں بھی انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن پاک معاشرے میں ظلم کو روکنے اور انصاف کرنے کو کہتا ہے۔ ہمیں ہر صورت مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کو ظلم سے روکنا ہو گا۔
صدر طیب ایردوان نے کہا کہ ترک معاشرہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ یہاں عدالتوں میں انصاف کیا جاتا ہے۔ قاضی کسی بھی خوف اور خطرے کے بغیر انصاف پر مبنی فیصلے دے رہے ہیں۔ انصاف دراصل انسانیت کی بہترین خدمت ہے۔
عدلیہ کے ججوں پر انصاف کی فراہمی کی ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ کسی بھی معاشرے میں ہر سرکاری ادارہ اہم ہوتا ہے لیکن محکمہ انصاف سب سے کلیدی ہوتا کیونکہ یہ معاشرے میں جرائم کے خاتمے اور شہریوں کو انصاف دینے کی ذمہ داری پوری کرتا ہے۔
ترک عدالت انصاف کے قاضی تحسین کے مستحق ہیں کہ وہ معاشرے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ نو آبادیاتی دور میں انسان انصاف کے لئے ترستا تھا۔ مختلف ممالک نے جو آج جمہوریت کے علم بردار بنے ہوئے ہیں نے کچھ ممالک پر زبردستی قبضہ کیا اور یہاں نو آبادیاتی نظام کو پروان چڑھایا جہاں مظلوم کے لئے انصاف کا حصول ممکن نہیں تھا۔
ترکی لیبیا سے شام تک ہر جگہ موجود ہے۔ مشرقی بحیرہ روم ہو یا بحیرہ اسود۔ ترکی ہمیشہ انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔ ترکی سمندر کی بین الاقوامی حد بندیوں کو تسلیم کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ دیگر ممالک بھی ترکی کے حقوق کو تسلیم کریں۔
ترکی کی سمندری حدود 80 ہزار کلومیٹر ہے۔ یونان کی حدود محض دس کلو میٹر ہے لیکن وہ ہزاروں کلو میٹر سمندری حدود پر ملکیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ نا انصافی کا ایک جیتا جاگتا کیس ہے۔
ترکی مشرقی بحیرہ روم میں اپنے حقوق سے کسی طور پر بھی دستبردار نہیں ہو گا۔ کچھ ممالک نو آبادیاتی نظام کو ابھی تک بھولے نہیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی ان کے سامنے گھٹنے تیک دے لیکن ترک عوام دنیا کو یہ بآور کرانا چاہتی ہے کہ ہم اپنے حق کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک یونان کو سامنے رکھ کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔
صدر طیب ایردوان نے کہا کہ یونان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ترکی خطے کی ایک بڑی طاقت ہے۔ ہمارے دفاع کو کمزور نہ سمجھا جائے۔
افریقہ سے کر لاطینی امریکہ تک کچھ ممالک نے انسانوں کو غلام بنائے رکھا لیکن اب یہ نظام ختم ہو چکا ہے اور ایک دن طاقت ور ممالک کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔
صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی دنیا بھر کی مظلوم قوموں کی آواز ہے۔ ہمارے آباوٗ اجداد نے سلطنت عثمانیہ کی صورت میں ایک بہت بڑے وسیع رقبے پر حکومت کی اور یہاں انصاف کا بول بالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے لئے لڑنا ہم نے اپنے آباوٗ اجداد سے سیکھا ہے اور ہم یہ تعلیم کبھی نہیں بھول سکتے۔
ترکی کی کامیابی دراصل ہماری قوم کی بیٹیوں اور بیٹوں کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ہمارے خون میں شامل ہے۔ ترک ہوں یا مسلمان وہ کسی بھی قوم کی غلامی میں نہیں رہ سکتے۔ ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ترکی کو حقوق دینے میں انصاف کیا جائے۔ ترک عوام اپنے حقوق پر کسی بھی طرح سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

Read Previous

لیون کلب نے یو ای ایف ویمین چیمپین لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

Read Next

وزارت دفاع میں کرپشن پر شاہی خاندان کے دو اہم شہزادے نوکریوں سے برطرف

Leave a Reply