fbpx
ozIstanbul

یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ترک شہر

کسی بھی ملک کی سیاحت میں اضافے کا انحصار اس کی ثقافت اور تاریحی مقامات پر ہوتا ہے۔ ترکی اپنی صدیوں پرانی تاریح اور ثقافت لیے دنیا کے دلکش ترین خطے میں واقع ہے۔ دنیا بھر میں قدرتی اور ثقافتی اقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے یونیسکو نامی ادارہ قائم کیا گیا ہے جو کہ اقوام متحدہ کا ہی ذیلی ادارہ ہے۔ یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست شائع کرتا ہے جس میں دنیا بھر کے قدرتی اور ثقافتی اثاثے شامل کیے جاتے ہیں۔ سیاح اس فہرست کو دیکھتے ہوئے اپنی پسندیدہ مقامات کا انتحاب کرتے ہیں۔

ترکی کے 18 مقامات یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔ جن میں سے 16 تقافتی زمرے میں آتے ہیں جبکہ گورمے اور پاموکلے قدرتی اور ثقافتی دونوں زمروں میں شامل ہیں۔ ترکی کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست درج ذیل ہے …

گرینڈ مسجد اور دیورگی ہسپتال

دیورگی گرینڈ مسجد اور ہسپتال 1985 میں یونیسکو کے ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا گیا ۔
اس عمارت میں پتھر کے استعمال کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔

استنبول کے تاریخی مقامات

تین عظیم سلطنتوں کے دارلحکومت ہونے کی حیثیت سے استنبول کی تاریخی اہمیت ذرا منفرد ہے۔ یہ تاریخی جزیرہ 1985 سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔

کیپادوکیا

1985 میں عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست کا حصہ بننے والا یہ مقام قدرتی اور ثقافتی ورثہ کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔ ہوا اور طوفان کے نتیجے میں تشکیل پانے والا یہ شہر سیاحوں کی توجہ کا خصوصی مرکز ہے۔

ہٹوزا
ہیتائیت سلطنت کا درالحکومت ہٹوزا 1986 میں عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں داخل ہوا اوپن ایئر آثار قدیمہ کا عجائب گھر سمجھا جاتا ہے۔

کوہ نمرود

سطح سمندر سے 2200 میٹر کی بلندی پر واقع کوہ نمرود یونیسکو کی ثقافتی فہرست میں 1987 میں شامل ہوا۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کی حیرت انگیز دنیا دیکھنے آتے ہیں۔

پاموکلے

ترکی کا شہر پاموکلے ہر سال تقربیا دو ملین سیاحوں کی آنکھوں کی زینت بنتا ہے 1988 میں عالمی ورثہ کی فہرست کا حصہ بنا۔ اس قدیم شہر نے اناطولین میں عیسائیت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ژانتھوس – لیتون

انتالیا کا قدیم شہر ژانتھوس – لیتون سن 1988 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہوا لیسین تہذیب کا سب سے اہم انتظامی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سفرانبولو

یہ شہر روایتی ترک رہائشی فن تعمیر کی ایک عمدہ مثال ہے۔ 1994 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کا حصہ بننے والا یہ شہر ہر سال تقریبا 1 ملین مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے ۔ اس شہر کے باری میں خیال کیا جات اہے کہ یہاں پائے جانے والے مکانات 17 ویں صدی سے آج تک اپنی اصل شکل میں برقرار ہیں۔

چانکلے

یہ شہر دنیا کے مشہور قدیم شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور 1998 میں اسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کیا گیا۔

(سلیمیی مسجد اور کمپلکس ایدیرن)

سیلیمی مسجد ، جو کہ 2011 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہوئی مشہور زمانہ عثمانی سلطنت کے معماروں میں سے ایک ہے۔ سولویں صدی میں یہ مسجد سلطان سلیم دوم کے اعزاز میں تعمیر کی گئی۔

کتالہیوک نیو لیتھک ایریا (قونیا)

یہ علاقہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست کا حصہ 2012 میں بنا۔

برسا اور کومالایزیک

برسا جہاں سلطنت عثمانیہ کا آغاز اور اہتمام ہوا میں عثمانی فن تعمیر کے باقیات موجود ہیں ۔ یہ 2014 سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہے۔

برگاما کثیر الثقافتی سر زمین

2014 میں یہ علاقہ عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہوا۔ اس میں ہیلینسٹک ، رومن ، مشرقی رومن اور عثمانی ادوار سے تعلق رکھنے والی آباد کاری کی آثار موجود ہیں ۔

دیار باقر محل اور ہیوسیل باغ کی ثقافتی سرزمین

یہ مقام یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں 2015 میں شامل ہوا۔

ایفیسس
یہ علاقہ قدیم زمانے کے سب سے اہم مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ 2015 میں اسے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

عانی

اس میں کافر ، عیسائی اور مسلم ثقافتوں کی تعمیراتی باقیات ہیں۔ 2016 سے ، یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست کا حصہ ہے۔

افروڈیسیاس

افروڈیسیاس کا قدیم شہر ، جو یونانی-رومی فن تعمیراتی اور شہری خصوصیات کا عکاس ہے اور اپنے مجسمہ سازی کے اسکول کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔

گوبھیکلیتپے
2018 میں یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کیے جانے والے اس شہر کو دنیا کے قدیم ترین مندر کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔

پچھلا پڑھیں

ہم ترکش زبان کس طرح سیکھ سکتے ہیں؟

اگلا پڑھیں

یو اے ای نے مسجد اقصٰی کا کنٹرول حاصل کرنے کی تگ و دو شروع کر دی

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے