ترکی اور یونان کے فوجی حکام کی نیٹو ہیڈکوارٹرز میں یومیہ ملاقاتیں جاری ہیں، جینز سٹولن برگ

مشرقی بحیرہ روم کے تنازعے کے حل کے لئے ترکی اور یونان کے فوجی حکام روزانہ نیٹو ہیڈ کواٹرز میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولن برگ نے برسلز میں ایک ویڈیو پریس کانفرنس میں بتایا کہ نیٹو اپنے رکن ممالک کو آپس کے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے تاکہ یومیہ بنیادوں پر ملاقاتوں سے معاملہ کو حل کرنے میں پیشرفت ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات چیت کا فائدہ یہ ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے جس سے سمندر میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں مدد ملی۔یہ نیٹو اور اس کے رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمندر میں اپنے کپتانوں اور پائلٹس کو ایک دوسرے کے سامنے آنے سے روکیں تاکہ امن و سکون کا ماحول برقرار رہے۔

جینز سٹولن برگ نے کہا یہ ہم سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہر ممکن حد تک معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ملٹری ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے اب ہم اس معاملے کو مزید آگے کس طرح لے جا سکتے ہیں اس پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے ترکی اور یونان کی طرف سے لچک کا مظاہرہ کرنے پر دونوں ملکوں کی سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ فوجی تصادم کا خطرہ ٹلنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تنازعہ ختم ہو چکا ہے لیکن اس سے سیاسی بات چیت کا راستہ کھل گیا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ جرمنی کی مشاورت اور مصالحت سے اس تنازعے کے پُرامن حل کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

Read Previous

کاراباخ تنازعے پر مِنسک گروپ کا غیر معمولی اجلاس آج واشنگٹن میں ہو گا

Read Next

ترک موبائل کمپنی ترک سیل نے اپنا ویلتھ فنڈ قائم کر لیا

Leave a Reply