کاراباخ تنازعے پر مِنسک گروپ کا غیر معمولی اجلاس آج واشنگٹن میں ہو گا

آرگنائزیشن فار سیکیورٹی اینڈ کو آپریشن ان یورپ کے مِنسک گروپ کا ایک غیر معمولی اجلاس آج واشنگٹن میں ہو گا۔

امریکہ، روس اور فرانس اس گروپ کے اہم ممبرز ہیں۔ روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زیخارووا نے کہا ہے کہ اجلاس میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جاری جنگ اور نیگورنو کاراباخ تنازعے کے حل کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مِنسک گروپ 1992 میں اس وقت قائم ہوا تھا جب آرمینیا نے آذربائیجان کے 20 فیصد علاقے نیگورنو کاراباخ اور اس کے کئی دیگر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ نیگورنو کاراباخ پر دونوں ملکوں کے درمیان جاری جنگ میں مصالحت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے 20 اور 21 اکتوبر کو ماسکو میں آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں جس میں تنازعے کے حل پر مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ روس مِنسک گروپ کے شریک چیئرمین (کو چیئرمین) کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں آج واشنگٹن میں اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 27 ستمبر کو آرمینیا نے آذربائیجان پر شب خون مارا جس کے بعد نیگورنو کاراباخ پر دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ جنگ جاری ہے۔ 10 اکتوبر کو روس کی مداخلت پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن آرمینیا نے اس معاہدے کے ٹھیک 24 گھنٹے بعد آذربائیجان کے دوسرے بڑے گنجان آباد شہر گانجا پر میزائلوں سے حملہ کر دیا جس میں کئی شہری شہید ہو گئے

20 اکتوبر کو دوبارہ دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کا معاہدہ ہوا۔ اس بار بھی آرمینیا نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گانجا پر دوبارہ حملہ کیا جس میں درجنوں معصوم شہری شہید ہو گئے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔

Read Previous

صدر ایردوان نے ترکی میں آرمینیا کے مذہبی رہنما سے ملاقات کی

Read Next

ترکی اور یونان کے فوجی حکام کی نیٹو ہیڈکوارٹرز میں یومیہ ملاقاتیں جاری ہیں، جینز سٹولن برگ

Leave a Reply