رواں سال موسم سرما میں تین ملین سیاحوں نےترکی کے تاریخی مقامات کی سیر کی

وبا کے خلاف لگائے گئ سفری پابندیوں میں آسانی کے بعد جون سے اگست تک کے عرصے میں تین ملین سے زائد سیاحوں نے ترکی کے تاریحی مقامات کا رخ کیا۔

اس موسم سرما میں ترک وزرات ثقافت اور سیاحت سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس موسم سرما میں وبا کے باعث مقامی اور غیر ملکی سیاحوں نے عجائب گھروں کی بجائے تاریحی مقامات کو ترجیح دی۔

اس موسم گرما میں چھ آثار قدیمہ کے مقامات اور چار عجائب گھر ترکی کے مقبول ترین سیاحتی مقامات رہے۔
قدیم شہر ہیراپولیس-پاموک کلے دولاکھ تیس ہزار سیاحوں کے ساتھ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا مقام رہا ۔ یہ شہر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل ہے ۔

دوسرے نمبر پر تیرویں صدر کے صوفی شاعر مولانا جلالدین رومی کے لیے وقف کردہ موزیم سیاحوں کا پسندیدہ مقام رہا۔

ترک شہر کونیا میں مولانا موزیم پچھلے سال 3.47 ملین مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا جو استنبول میں آیا صوفیا کے بعد سب سے ترکی کا سب سے اہم سیاحتی میوزیم ہے۔

تاریخی مقامات ، حیرت انگیز ساحل اور قدرتی خوبصورتی کے امتزاج کے ساتھ انتالیا کے کیمر ضلع کا قدیم شہر فاسلیس سیاحوں کو راغب کرنے میں تیسرے نمبر پر ہے۔

فروری کے بعد ترکی نے سیاحت سمیت دیگر تمام تقریبات جون تک کے لیے منسوح کر دیں تھیں۔ جون میں معمول کی طرف لوٹنے کے عمل کے آغاز کے بعد ترکی نے سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے سخت اقدامات کے ساتھ سیاحت کی سہولیات دوبارہ کھول دیں۔

Read Previous

2020 فرانسیسی اوپن کے دوسرے کوالیفائنگ راونڈ میں ترکی کی ٹینیس کھلاڑی چالا بیوکا لیگ سے باہر

Read Next

رواں سال ترکی نے 87 ممالک کو بسیں برامد کیں۔

Leave a Reply